حدیث نمبر: 3010
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ ، حَدَّثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنِي سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ : " قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ نِصْفَيْنِ ، نِصْفًا لِنَوَائِبِهِ وَحَاجَتِهِ ، وَنِصْفًا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ قَسَمَهَا بَيْنَهُمْ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو دو برابر حصوں میں تقسیم کیا : ایک حصہ تو اپنی حوائج و ضروریات کے لیے رکھا اور ایک حصہ کے اٹھارہ حصے کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 3010
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن, وللحديث شواھد انظر الحديث الآتي (3011)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 4649)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/2) (حسن صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان۔`
سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کو دو برابر حصوں میں تقسیم کیا: ایک حصہ تو اپنی حوائج و ضروریات کے لیے رکھا اور ایک حصہ کے اٹھارہ حصے کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3010]
فوائد ومسائل:
تفصیلات پہلے گزر چکی ہیں۔
نبی کریمﷺ نے خیبر کی زمینوں کو اس طرح دو حصو ں میں تقسیم فرمایا جس طرح وہ حاصل ہوئیں۔
جو جنگ کے نتیجے میں ملیں۔
وہ آپ نے تقسیم فرما دیں۔
اور تقریبا اتنی ہی زمینیں بغیر لڑے معاہدہ صلح کے نتیجے میں حاصل ہوئیں۔
ان کی آمدنی قرآن کے حکم کے مطابق آپ کے لئے تھی۔
آپ ﷺ نے اسے مسلمانوں کے اتفاقی اخراجات کےلئے اور تھوڑا سا حصہ ذاتی اور خاندانی ضروریات کےلئے مختص فرما دیا۔
حکومتوں اور رفاہی جمعیتوں اور انجمنوں کے پاس خاص محفوظ فنڈ ز جمع رہے تو بہت عمد ہ ہے۔
تاکہ اتفاقی اخراجات پورے کرنے میں آسانی رہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3010 سے ماخوذ ہے۔