سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي حُكْمِ أَرْضِ خَيْبَرَ باب: خیبر کی زمینوں کے حکم کا بیان۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : لَمَّا افْتُتِحَتْ خَيْبَرُ ، سَأَلَتْ يَهُودُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقِرَّهُمْ عَلَى أَنْ يَعْمَلُوا عَلَى النِّصْفِ مِمَّا خَرَجَ مِنْهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أُقِرُّكُمْ فِيهَا عَلَى ذَلِكَ مَا شِئْنَا فَكَانُوا عَلَى ذَلِكَ " ، وَكَانَ التَّمْرُ يُقْسَمُ عَلَى السُّهْمَانِ مِنْ نِصْفِ خَيْبَرَ وَيَأْخُذُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخُمُسَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْ أَزْوَاجِهِ مِنَ الْخُمُسِ مِائَةَ وَسْقٍ تَمْرًا وَعِشْرِينَ وَسْقًا شَعِيرًا ، فَلَمَّا أَرَادَ عُمَرُ إِخْرَاجَ الْيَهُودِ أَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لَهُنَّ : مَنْ أَحَبَّ مِنْكُنَّ أَنْ أَقْسِمَ لَهَا نَخْلًا بِخَرْصِهَا مِائَةَ وَسْقٍ فَيَكُونَ لَهَا أَصْلُهَا وَأَرْضُهَا وَمَاؤُهَا وَمِنَ الزَّرْعِ مَزْرَعَةَ خَرْصٍ عِشْرِينَ وَسْقًا ، فَعَلْنَا وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ نَعْزِلَ الَّذِي لَهَا فِي الْخُمُسِ كَمَا هُوَ فَعَلْنَا .
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ : آپ ہمیں اس شرط پر یہیں رہنے دیں کہ ہم محنت کریں گے اور جو پیداوار ہو گی اس کا نصف ہم لیں گے اور نصف آپ کو دیں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا ہم تمہیں اس شرط پر رکھ رہے ہیں کہ جب تک چاہیں گے رکھیں گے ، ، چنانچہ وہ اسی شرط پر رہے ، خیبر کی کھجور کے نصف کے کئی حصے کئے جاتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے پانچواں حصہ لیتے ، اور اپنی ہر بیوی کو سو وسق کھجور اور بیس وسق جو ( سال بھر میں ) دیتے ، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے یہود کو نکال دینے کا ارادہ کر لیا تو امہات المؤمنین کو کہلا بھیجا کہ آپ میں سے جس کا جی چاہے کہ میں اس کو اتنے درخت دے دوں جن میں سے سو وسق کھجور نکلیں مع جڑ کھجور اور پانی کے اور اسی طرح کھیتی میں سے اس قدر زمین دے دوں جس میں بیس وسق جو پیدا ہو ، تو میں دے دوں اور جو پسند کرے کہ میں خمس میں سے اس کا حصہ نکالا کروں جیسا کہ ہے تو میں ویسا ہی نکالا کروں گا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب خیبر فتح ہوا تو یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ: آپ ہمیں اس شرط پر یہیں رہنے دیں کہ ہم محنت کریں گے اور جو پیداوار ہو گی اس کا نصف ہم لیں گے اور نصف آپ کو دیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اچھا ہم تمہیں اس شرط پر رکھ رہے ہیں کہ جب تک چاہیں گے رکھیں گے،، چنانچہ وہ اسی شرط پر رہے، خیبر کی کھجور کے نصف کے کئی حصے کئے جاتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے پانچواں حصہ لیتے، اور اپنی ہر بیوی کو سو وسق کھجور اور بیس وسق جو (سال بھر میں) دیتے، پھر جب عمر رضی اللہ عنہ نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3008]
1۔
صحیح مسلم کی روایت کے مطابق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے زمین اور پانی کا انتخاب کیا۔
اور بعض دیگر ازواج مطہرات نے رضی اللہ عنہما نے حسب سابق متعین حصہ چنا۔
صحیح مسلم کی یہ روایت بھی حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے سے ہے۔
اور زیادہ مفصل اور واضح ہے۔
اس روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے خیبر میں فے کی زمینوں کی آمدنی میں سے سالانہ خرچ کے طور پر اپنی ہر زوجہ محترمہ کو کل سو وسق اسی وسق کھجور اور بیس وسق جو مقرر فرمائے تھے۔
(صحیح مسلم، المساواة، حدیث:1551) ابو دائود کی حدیث 3006 میں بھی یہی مقدار مذکور ہے۔
البتہ موجودہ روایت میں کل سو وسق کی بجائے کھجور سو وسق اور اس کے علاوہ جو بیس وسق کی مقدار بیان کی گئی ہے۔
معلوم ہوتا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرنے والے رایوں میں سے کوئی راوی ظن وتخمین سے مقدار بیان کرتے ہوئے التباس کا شکار ہوگیا۔
اور کل سو کی بجائے کھجور سو وسق اور جو بیس وسق کا ذکرکیا گیا۔
(فتح الودود بحوالة عون المعبود باب ما جاء في حکم أرض خیبر)
2۔
خیبر کے طریق کے مطابق بٹائی پر زمین لینا اور دینا جائز ہے۔
رسول کریم ﷺ نے ازواج مطہرات کے لیے فی نفر سو وسق غلہ مقرر فرمایا تھا۔
یہی طریقہ عہد صدیقی میں رہا۔
مگر عہد فاروقی میں یہودیوں سے معاملہ ختم کر دیا گیا۔
اس لیے حضرت عمر فاروق ؓ نے ازواج مطہرات کو غلہ یا زمین ہر دو کا اختیار دے دیا تھا۔
ایک وسق چار من اور بارہ سیر وزن کے برابر ہوتا ہے۔
بذیل حدیث أن النبي صلی اللہ علیه وسلم عامل خیبر بشطر ما یخرج منها حافظ صاحب ؒ فرماتے ہیں: هذا الحدیث هو عمدة من أجاز المزارعة و المخابرة لتقریر النبي صلی اللہ علیه وسلم کذلك و استمرارہ علی عهد أبي بکر إلی أن أجلاهم عمر کما سیأتي بعد أبواب استدل به علی جواز المساقات في النخل و الکرم و جمیع الشجر الذي من شانه أن یثمر بجزء معلوم یجعل للعامل من الثمرة و به قال الجمهور۔
(فتح الباري)
یعنی یہ حدیث عمدہ دلیل ہے اس کی جو مزارعت اور مخابرۃ کو جائز قرار دیتا ہے۔
اس لیے کہ آنحضرت ﷺ نے اسی طریق کار کو قائم رکھا اورحضرت ابوبکر ؓ کے زمانہ میں بھی یہی دستور رہا۔
یہاں تک کہ حضرت عمر ؓ کا زمانہ آیا۔
آپ نے بعد میں ان یہود کو خیبر سے جلا وطن کر دیا تھا۔
کھیتی کے علاوہ جملہ پھل دار درختوں میں بھی یہ معاملہ جائز قرار دیا گیا کہ کارکنان کے لیے مالک پھلوں کا کچھ حصہ مقرر کردیں۔
جمہور کا یہی فتوی ہے۔
اس میں کھیت اور باغ کے مالک کا بھی فائدہ ہے کہ وہ بغیر محنت کے پیداوار کا ایک حصہ حاصل کرلیتا ہے اور محنت کرنے والے کے لیے بھی سہولت ہے کہ وہ زمینات سے اپنی محنت کے نتیجہ میں پیداوار لے لیتا ہے۔
محنت کش طبقہ کے لیے یہ وہ اعتدال کا راستہ ہے جو اسلام نے پیش کرکے ایسے مسائل کو حل کر دیا ہے، توڑ پھوڑ، فتنہ فساد، تخریب کاری کا وہ راستہ جو آج کل بعض جماعتوں کی طرف سے محنت کش لوگوں کو ابھارنے کے لیے دنیا میں جاری ہے، یہ راستہ شرعاً بالکل غلط اور قطعاً ناجائز ہے۔
(1)
حافظ ابن حجر ؓ لکھتے ہیں کہ مزارعت کے جواز پر یہ حدیث ایک عمدہ دلیل کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر والوں سے نصف پیداوار پر معاملہ کیا، عمر بھر اسی طریق کار کو قائم رکھا۔
حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے دور خلافت میں بھی اسی دستور پر عمل ہوتا رہا یہاں تک کہ حضرت عمر ؓ کا زمانہ آیا تو انہوں نے یہود کو ان کی سازشوں کی وجہ سے بے دخل کر دیا کیونکہ ان سے اس شرط پر معاملہ طے ہوا تھا کہ جب تک ہم چاہیں گے تم یہ کام کرو گے۔
حضرت عمر ؓ نے یہود کی جلا وطنی کے بعد خیبر کی زمین تقسیم کر دی۔
(2)
رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں ازواج مطہرات کو اَسی (80)
وسق کھجور ملتی تھی کیونکہ گھریلو ضروریات کے لیے اس کا استعمال زیادہ تھا اور بیس (20)
وسق جو ملتے تھے کیونکہ گھر میں روٹی کبھی کبھار پکائی جاتی تھی۔
حضرت عمر ؓ نے انہیں اختیار دیا کہ چاہیں تو حسب دشوار راشن لیتی رہیں اور چاہیں تو زمین اور پانی قبول کر لیں۔
(3)
واضح رہے کہ بٹائی پر زمین کاشت کے لیے دینے میں مالک کا بھی فائدہ ہے کہ وہ محنت کے بغیر پیداوار کا ایک حصہ حاصل کر لیتا ہے اور محنت کرنے والے کے لیے بھی سہولت ہے کہ وہ زمین سے اپنی محنت کے نتیجے میں پیداوار لے لیتا ہے۔
محنت کش انسان کے لیے یہ وہ اعتدال کا راستہ ہے جو اسلام نے پیش کر کے ان کے جملہ مسائل کو حل کر دیا ہے۔
(1)
امام بخاری ؒ نے عنوان میں اس امر کی وضاحت نہیں کی کہ اگر مزارعت کا معاملہ کرتے وقت سالوں کا تعین نہ کیا جائے تو یہ معاملہ جائز ہے یا ناجائز کیونکہ اس میں اختلاف ہے۔
بعض ائمہ اسے ناجائز کہتے ہیں۔
ہمارا رجحان یہ ہے کہ ایسا معاملہ جائز ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے بھی خیبر کی زمین بٹائی پر دیتے وقت یہود سے مدت کا تعین نہیں کیا تھا، تاہم مالک زمین یہ وضاحت کر دے کہ جب تک میں چاہوں گا، تمہیں زمین دوں گا تاکہ بعد میں جھگڑا پیدا نہ ہو۔
ایسی صورت میں مالک زمین کو اختیار ہو گا کہ قبل از وقت مزارع کو نوٹس دے کر اپنی زمین واپس لے۔
عرف عام میں بھی ایسے ہی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے بھی یہود سے فرمایا تھا کہ جب تک ہم چاہیں گے تمہیں برقرار رکھیں گے۔
(2)
بعض علماء کا خیال ہے کہ جب مدت کا تعین نہ کیا جائے تو کم از کم معاملہ ایک سال کے لیے ہو گا۔
اگر سال گزرنے کے بعد مالک نے زمین چھوڑ دینے کا مطالبہ نہ کیا اور نہ مزارع نے ازخود زمین چھوڑی تو یہ دلیل ہے کہ دونوں اپنے سابقہ عقد پر قائم ہیں، اسی طرح کئی سال تک یہ معاملہ چل سکتا ہے۔
واللہ أعلم
(1)
مقصد یہ ہے کہ مزارعت کا معاملہ جیسے مسلمانوں میں ہو سکتا ہے اسی طرح مسلمان اور کافر میں بھی ہو سکتا ہے۔
چونکہ حدیث میں صرف یہود کا ذکر تھا، اس لیے عنوان میں انہی کو بیان کیا۔
بہرحال اسلام نے دنیاوی، تمدنی، معاشرتی اور اقتصادی معاملات میں تنگ نظری سے کام نہیں لیا بلکہ ایسے معاملات میں صرف انسانی مفاد کے پیش نظر وسعت نظری کا مظاہرہ کیا ہے۔
(2)
اقتصادی معاملات میں مسلم اور غیر مسلم کے لیے کوئی قدغن نہیں، البتہ عدل و انصاف کا مطالبہ مسلم اور کافر دونوں سے ہے۔
عدل و انصاف ہر جگہ ہر شخص کے لیے ضروری ہے۔
دور حاضر میں مسلمان زمین کے ہر حصے میں پھیلے ہوئے ہیں، بسا اوقات غیر مسلم لوگوں سے کاروباری تعلقات قائم ہو سکتے ہیں۔
اسلام نے ایسے معاملات میں مذہبی تعصب سے کام نہیں لیا۔
ان دونوں احادیث سے ثابت ہوا کہ معاملات میں مناسب اور جائز شرط لگانا اور فریقین کا ان پر معاملہ کرنا درست ہے جیسا کہ پہلی حدیث کے مطابق مہاجرین کو پھلوں میں اس شرط پر شریک کیا گیا کہ وہ ان باغات میں محنت کریں گے اور یہودیوں کو خیبر کی زمین اس شرط پر دی گئی کہ وہ اس میں کھیتی باڑی کریں، پھر پیداوار کے نصف میں شریک ہوں گے، یعنی یہ عقد مزارعہ تھا جس میں نصف پیداوار کی شرط طے ہوئی تھی۔
(1)
مشرکین سے مراد وہ کافر ہیں جو دارالاسلام میں امن لے کر رہتے ہیں اور حربی نہ ہوں کیونکہ مشرک حربی اور مسلمان کے درمیان شراکت نہیں ہو سکتی، حدیث میں ذمی کا ذکر ہے جبکہ عنوان میں مشرک کا بیان ہوا ہے۔
امام بخاری ؒ نے ایسے مشرک کو ذمی پر قیاس کیا ہے۔
مسلمان اور ذمی کے درمیان شراکت ہو سکتی ہے کیونکہ شراکت اجارے کی ایک قسم ہے اور ذمی کو اجرت پر رکھنا جائز ہے۔
مزارعت میں شراکت بالاتفاق جائز ہے، البتہ اس کے علاوہ دیگر کاروبار میں امام مالک ؒ اللہ ذمی کی شراکت ناجائز خیال کرتے ہیں کیونکہ ذمی کبھی شراب کی تجارت کر لیتا ہے اور کبھی سودی کاروبار کرنے لگتا ہے اور اس قسم کی تجارت ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں، البتہ اگر وہ مسلمان کی نگرانی میں کاروبار کرے تو بالاتفاق جائز ہے کیونکہ اس میں ناجائز کاروبار کا خطرہ نہیں ہے۔
(فتح الباري: 167/5) (2)
ہمارے رجحان کے مطابق ایک مسلمان کسی بھی غیر مسلم سے معاہدۂ تجارت کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ تجارت شرعی ہو، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ جن کافروں سے جنگ کا سلسلہ جاری ہے، ان سے شراکت کا معاملہ کرنا درست نہیں۔
واللہ أعلم
یعنی مراد یہ ہے کہ ارض خیبر کو فتح کرنے کے بعد یہود سے معاہدہ ہوگیا تھا۔
پہلے وہ سب زمینیں ان ہی کی تھیں۔
بعد میں غلبہ اسلام کے بعد وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی ہوگئی تھیں۔
اس میں ایک طرح سے ان زمینوں کو بطور بخشش دینا بھی مقصود ہے۔
ترجمۃ الباب سے اسی میں مطابقت ہے۔
اس حدیث سے معاملات کے بہت سے مسائل نکلتے ہیں جن کو حضرت امام نے جگہ جگہ بیان فرمایا ہے۔
1۔
رسول اللہ ﷺنے فرمایا تھا۔
’’جزیرہ عرب میں دو دین اکٹھے نہیں رہ سکتے۔
‘‘ (السنن الکبری للبیھقی: 115/6)
نیز یہودیوں کو فتنہ انگیزی اور آئے دن مسلمانوں کے خلاف ان کی سازشوں کی وجہ سے یہودیوں کو وہاں سے نکالا۔
حضرت ابو بکر ؓ اپنی خلافت میں انھیں اس لیے نہ نکال سکے کہ وہ مرتدین کے خلاف جنگ وقتال میں مصروف رہے۔
اس لیے انھیں ان کے خلاف کاروائی کرنے کا وقت نہ مل سکا۔
2۔
واضح رہے کہ تیماء بلا وطی میں سمندر کے کنارے ایک گاؤں کا نام ہے اور اریحاء ارض شام میں ایک بستی کو کہا جاتا ہے۔
3۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس حدیث کا عنوان سے کوئی تعلق نہیں لیکن یہ اعتراض بے جا ہے کیونکہ ارض خیبر کو فتح کرنے کے بعد یہودیوں سے یہ معاہدہ ہوگیا تھا چونکہ پہلے وہ تمام زمین یہودیوں کی تھی پھر وہ اللہ اور اس کے رسول کی ہوگئی رسول اللہﷺنے وہاں اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے انھیں بٹائی پردے دی گویا آپ نےایک طرح سے ان زمینوں کو انھیں بخش دیا۔
باب سے مطابقت کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
(فتح الباري: 306/6)
(1)
مزارعت کا معاملہ کرتے وقت جب مدت معین نہ ہو تو انصاف کا تقاضا ہے کہ فیصلہ باہمی رضا مندی سے ہو۔
اس میں کم از کم ایک سال کی مدت تو ہونی چاہیے تاکہ فصل کے درمیان کاشتکار کو بے دخل کر کے اسے نقصان نہ پہنچایا جائے، اسے فصل کی تیاری تک ضرور مہلت دینی چاہیے۔
(2)
حضرت عمر ؓ نے یہود کو اس لیے بے دخل کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی آخری وصیت تھی کہ یہود کو جزیرۂ عرب سے نکال دیا جائے، چنانچہ جب ان کی شرارتیں اور خباثتیں انتہا کو پہنچ گئیں تو حضرت عمر ؓ نے انہیں نکال باہر کیا، لہذا حضرت عمر کا یہ اقدام کسی پیشگی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں تھا۔
وقتی طور پر انہیں جلا وطن کرنے کا سبب یہ بنا کہ حضرت ابن عمر ؓ اپنے باغات کی دیکھ بھال کے لیے خیبر گئے تو ان کے ہاتھ پاؤں توڑ دیے گئے۔
حضرت عمر ؓ کو جب اس واقعے کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا: یہود کے علاوہ ہمارا وہاں کوئی دشمن نہیں، ہمارے وہی دشمن ہیں، لہذا ہم ان کے علاوہ اور کسی کو مہتم نہیں کرتے، اس لیے میری رائے ہے کہ اب انہیں جلا وطن کر دیا جائے۔
(صحیح البخاري، الشروط، حدیث: 2730) (3)
امام بخاری ؒ کے قائم کردہ عنوان میں یہ الفاظ ہیں: ’’میں تمہیں اس وقت تک رہنے دوں گا جب تک اللہ تمہیں رہنے دے گا۔
‘‘ جبکہ حدیث میں ہے کہ جب تک ہم تمہیں رکھیں گے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ حدیث، عنوان کے مطابق نہیں جیسا کہ بعض بزعم خویش اہل علم نے دعویٰ کیا ہے بلکہ یہ امام صاحب کی ذہانت اور جودتِ طبع کا نتیجہ ہے۔
دراصل امام بخاری نے مذکورہ عنوان سے اس روایت کی طرف اشارہ کیا ہے جو انہوں نے کتاب الشروط (حدیث: 2730)
میں بیان کی ہے۔
اس میں یہ الفاظ ہیں: ’’جب تک تمہیں اللہ رہنے دے گا۔
‘‘ اور اس مقام پر بیان کردہ حدیث پر بایں الفاظ عنوان قائم کیا ہے: ’’جب معاملہ مزارعت میں شرط کی جائے کہ جب چاہوں گا تجھے نکال دوں گا۔
‘‘ بہرحال ہر عنوان میں ہر حدیث کو ملحوظ رکھ کر ایک کی دوسرے سے تفسیر کی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ مدت باہمی رضا مندی سے طے ہو گی، نیز یہود کا اخراج مشیت الٰہی کے مطابق تھا۔
واللہ أعلم
جامع الصحیح میں ان سے اور ان کے شیخ سے صرف یہی ایک حدیث مروی ہے۔
حضرت عمر ؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ کو پیداوار وصول کرنے کے لئے خیبر بھیجا تھا۔
وہاں بدعہد یہودیوں نے موقع پاکر حضرت عبداللہ کو ایک چھت سے نیچے دھکیل دیا اور ان کے ہاتھ پیر توڑدیئے۔
ایسی ہی شرارتوں کی وجہ سے حضرت عمر ؓ نے خیبر سے یہود کو جلاوطن کردیا۔
خیبر کی فتح کے بعد رسول کریم ﷺ نے مفتوحہ زمینات کا معاملہ خیبر کے یہودیوں سے کرلیا تھا اور کوئی مدت مقرر نہیں کی بلکہ یہ فرمایا کہ یہ معاملہ ہمیشہ کے لئے نہیں ہے بلکہ جب اللہ چاہے گایہ معاملہ ختم کردیا جائے گا۔
اسی بنا پر حضرت عمر ؓ نے اپنے عہدخلافت میں ان کو بے دخل کرکے دوسری جگہ منتقل کرادیا۔
اس بد عہد قوم نے کبھی کسی کے ساتھ وفا نہیں کی’ اس لئے یہ قوم ملعون اور مطرود قرار پائی۔
اسی حدیث سے یہ نکلا کہ زمین کا مالک اگر کاشتکار کا کوئی قصور دیکھے تو اس کو بے دخل کرسکتا ہے گو وہ کام شروع کرچکا ہو مگر اس کے کام کا بدل دینا ہوگا جیسے کہ حضرت عمر ؓ نے کیا۔
(1)
بعض حضرات کا خیال ہے کہ جب کسی سے مزارعت کا معاملہ کیا جائے تو سال مکمل ہونے سے پہلے پہلے مزارع کو بے دخل نہیں کیا جا سکتا، جب اس سال کی فصل اٹھا لے گا تو عقد مزارعت ختم ہو گا، لیکن امام بخاری ؒ نے ثابت کیا ہے کہ اگر زمین کا مالک مزارع سے یہ شرط کر لے کہ میں جب چاہوں گا تجھے بے دخل کر دوں گا تو یہ شرط جائز ہے بشرطیکہ فریقین اسے بخوشی قبول کر لیں۔
(2)
اس سلسلے میں امام بخاری ؒ نے عجیب اسلوب اختیار کیا ہے۔
کتاب المزارعہ میں ایک عنوان ان الفاظ میں قائم کیا ہے: (إذ قال رب الارض: أقرك ما أقرك الله)
’’میں تمہیں ٹھہرائے رکھوں گا جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں ٹھہرائے گا۔
‘‘ اور حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں: (نقركم بها علی ذلك ما شئنا)
’’ہم جب تک چاہیں گے تمہیں ٹھہرائے رکھیں گے۔
‘‘ اور یہاں عنوان یہ ہے: (إذا شئت أخرجتك)
’’میں جب چاہوں گا تجھے بے دخل کر سکوں گا۔
‘‘ اور حدیث میں یہ الفاظ ہیں: (نقركم ما أقركم الله)
’’جب تک اللہ تعالیٰ تمہیں ٹھہرائے گا ہم تمہیں ٹھہرائیں گے۔
‘‘ اس سے دو باتوں کا پتہ چلتا ہے: ایک یہ کہ یہودیوں کا سرزمین خیبر سے نکلنا اللہ نے ان کے مقدر میں لکھا ہوا تھا، انہوں نے یہاں سے ضرور نکلنا تھا۔
دوسرا یہ کہ اگر پہلے دن ہی یہ شرط کر لی جائے کہ ہم جب چاہیں گے بے دخل کر سکیں گے اور فریقین رضامندی سے اس شرط کو قبول کر لیں تو ایسا کرنا جائز ہے۔
(3)
نیز اگر زمین کا مالک کاشتکار سے کوئی قصور یا خیانت دیکھے تو اسے بے دخل کرنے کا مجاز ہے اگرچہ مزارع اپنا کام شروع کر چکا ہو، مگر جو محنت اس نے کر رکھی ہے اس کا بدل ضرور دینا ہو گا۔
مقصد یہ ہے کہ تمدنی اور معاشرتی امور میں باہمی طور پر معاملات جن شرائط سے طے پا جائیں وہ اگر جائز حدود میں ہوں تو ضرور قابل تسلیم ہوں گے۔
1۔
رسول اللہ ﷺ نے جب خیبر فتح کیا تو وہاں کی زمین وہاں کے لوگوں کے مطالبے پر ان کے پاس رہنے دی، تاہم ان کے ساتھ اس طرح سے معاملہ کیا کہ وہ اس میں کھیتی باڑی کریں اور انھیں اس کی پیداوار سے نصف ملے گا۔
2۔
رسول اللہ ﷺ نے اہل خیبر سے یہ معاملہ بطور مزارعت کیاتھاجبکہ بعض آئمہ کے نزدیک معاملہ مزارعت جائز نہیں۔
اگرچہ مزارعت کی بعض صورتیں ناجائز ہیں مثلاً: زمین کے کسی خاص ٹکڑے کی پیداوار مالک اپنے لیے خاص کر لے، چاہے دوسری زمین پیداوار دے یا نہ دے۔
ایسا کرنا شرعاًناجائز ہے تاہم ان مخصوص صورتوں کے ناجائز ہونے کی وجہ سے مطلق طور پر اس معاملے کو ناجائز کہنا درست نہیں کیونکہ متعدد صحابہ کرام ؓ سے قولی اور عملی طور پر اس کا جواز منقول ہے۔
واللہ اعلم۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہودیوں کو مختلف اسباب جمع ہو جانے کی بناء پر خیبر سے نکال دیا تھا، کیونکہ مسلمانوں کے پاس غلام اور خدمت گزار وافر مقدار میں جمع ہو گئے تھے، جو یہ کام کاج کر سکتے تھے۔
(2)
یہودیوں نے بدعہدی کرتے ہوئے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جو وہاں کسی ضرورت سے گئے تھے، دھوکے سے ایک مکان کی چھت سے گرا دیا تھا، جس سے ان کے ہاتھوں اور پاؤں کے جوڑ نکل گئے تھے۔
(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، جزیرۃالعرب میں دو دین جمع نہیں رہیں گے، یعنی دو ملتوں کے افراد نہیں رہیں گے، اور اس سےمراد ارض حجاز تھی، کیونکہ تیماء جزیرۃالعرب میں ہی واقع ہے۔
(4)
ان میں فسق و فجور اور بے حیائی پھیل گئی تھی۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کے ساتھ خیبر کی زمین سے جو بھی پھل یا غلہ حاصل ہو گا اس کے آدھے پر معاملہ کیا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأحكام/حدیث: 1383]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے مزارعت (بٹائی پرزمین دینے) کا جواز ثابت ہوتاہے، ائمہ ثلاثہ اوردیگرعلمائے سلف وخلف سوائے امام ابوحنیفہ کے جواز کے قائل ہیں، احناف نے خیبرکے معاملے کی تاویل یہ کی ہے کہ یہ لوگ آپﷺ کے غلام تھے، لیکن یہ تاویل صحیح نہیں کیونکہ آپﷺ کا ارشاد گرامی ہے ’’نُقرُكُم مَا أَقَركُمُ الله‘‘ ہم تمہیں اس وقت تک برقراررکھیں گے جب تک اللہ تمہیں برقراررکھے گا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آپ کے غلام نہیں تھے، نیز احناف کا کہنا ہے کہ یہ معدوم یا مجہول پیداوار کے بدلے اجارہ ہے جو جائز نہیں، اس کا جواب جمہوریہ دیتے ہیں کہ اس کی مثال مضارب کی ہے کہ مضارب جس طرح نفع کی امید پر محنت کرتا ہے اوروہ نفع مجہول ہے اس کے باوجود وہ جائز ہے، اسی طرح مزارعت میں بھی یہ جائز ہوگا، رہیں وہ روایات جو مزارعت کے عدم جواز پر دلالت کرتی ہیں توجمہور نے ان روایات کی تاویل کی ہے کہ یہ روایات نہی تنزیہی پر دلالت کرتی ہیں، یا یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب صاحب زمین کسی مخصوص حصے کی پیداوار خود لینے کی شرط کر لے (واللہ اعلم) حاصل بحث یہ ہے کہ مزارعت کی جائز شکل یہ ہے کہ مالک اوربٹائی پر لینے والے کے مابین زمین سے حاصل ہو نے والے غلّہ کی مقدار اس طرح متعین ہو کہ دونوں کے مابین جھگڑے کی نوبت نہ آئے اور غلّہ سے متعلق نقصان اور فائدہ میں طے شدہ امرکے مطابق دونوں شریک ہوں یا روپے کے عوض زمین بٹائی پر دی جائے اورمزارعت کی وہ شکل جوشرعاً ناجائز ہے وہ حنظلہ بن قیس انصاری کی روایت میں ہے، وہ کہتے ہیں رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں زمین کی بٹائی کا معاملہ اس شرط پر کرتے تھے کہ زمین کے اس مخصوص حصے کی پیداوارمیں لوں گا اورباقی حصے کی تم لینا، تونبی اکرمﷺ نے اس سے منع فرما دیا کیونکہ اس صورت میں کبھی بٹائی پر لینے والے کا نقصان ہوتا کبھی دینے والے کا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل خیبر کو زمین کے کام پر اس شرط پہ لگایا کہ کھجور یا غلہ کی جو بھی پیداوار ہو گی اس کا آدھا ہم لیں گے اور آدھا تمہیں دیں گے۔ [سنن ابي داود/كتاب البيوع /حدیث: 3408]
مساقات بھی مزارعت اور مخابرت کی طرح کا معاملہ ہے۔
مگر اسے کھجوروں اور انگوروں وغیرہ کے باغات سے خاص کیا جاتا ہے کہ کھجوروں کا مالک کسی سے طے کرلے کہ وہ ان میں محنت کرے۔
سیراب کرے تو اسے ایک خاص متعین حصہ پھل ملے گا جیسے کہ مزارعت میں ہوتا ہے۔
خیبر میں باغوں کی خدمت کا معاہدہ مساقاہ اور کھیتی کا معاہدہ مزارعت تھا خیبر والی صورت نئی متعارف کردہ جائز صورت تھی سابقہ جاہلی صورت کو اسلام نے حرام قرار دیا۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود خیبر کو خیبر کے باغات اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اپنے خرچ پر اس میں کام کریں گے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کے پھل کا آدھا ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3962]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہود کو خیبر کے باغات اور اس کی زمین اس شرط پر دی کہ وہ اس میں اپنے خرچ پر کام کریں گے اور اس کی پیداوار کا آدھا حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہو گا۔ [سنن نسائي/كتاب المزارعة/حدیث: 3961]
(2) ”سپرد کر دی تھی“ گویا خیبر فتح کرنے کے بعد زمین کے مالک رسول اللہ ﷺ اور مسلمان تھے اور یہودی مزارع۔ اور یہ بٹائی کے جواز کی صریح دلیل ہے۔ بعد میں یہودیوں کو وہاں سے نکالا گیا تو ان کو زمینوں کا معاوضہ نہیں دیا گیا کیونکہ وہ مالک نہیں مزارع تھے۔ [أُقرُّكم على ما أقرَّكم اللهُ ] ”جب تک ہماری مرضی ہوگی‘ ہم تمہیں رکھیں گے۔“ صریح حدیث ہے۔ مالکان کو تو ایسے نہیں کہا جاتا‘ لہٰذا جن لوگوں نے بٹائی کو ممنوع قراردینے کے لیے خیبر کی زمین کے بارے میں تاویلات کی ہیں‘ وہ تارعنکبوت سے بھی کمزور ہیں۔