سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب مَنْ قَالَ تَغْتَسِلُ مَنْ طُهْرٍ إِلَى طُهْرٍ باب: مستحاضہ حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کرے پھر جب دوسرے حیض سے پاک ہو تو غسل کرے (یعنی استحاضہ کے خون میں وضو ہے غسل نہیں ہے)۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، عَنْ أَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ ، عَنْ امْرَأَةِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَحَدِيثُ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، وَالْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ،وَأَيُّوبَ أَبِي الْعَلَاءِ ، كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ لَا تَصِحُّ ، وَدَلَّ عَلَى ضُعْفِ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبٍ ، هَذَا الْحَدِيثُ أَوْقَفَهُ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَأَنْكَرَ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ أَنْ يَكُونَ حَدِيثُ حَبِيبٍ مَرْفُوعًا ، وَأَوْقَفَهُ أَيْضًا أَسْبَاطٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، مَوْقُوفٌ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ ابْنُ دَاوُدَ عَنِ الْأَعْمَشِ مَرْفُوعًا أَوَّلُهُ ، وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ ، وَدَلَّ عَلَى ضُعْفِ حَدِيثِ حَبِيبٍ هَذَا ، أَنَّ رِوَايَةَ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ ، فِي حَدِيثِ الْمُسْتَحَاضَةِ ، وَرَوَى أَبُو الْيَقْظَانِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَرَوَى عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، وَالْمُغِيرَةُ ، وَفِرَاسٌ ، وَمُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ حَدِيثِ قَمِيرَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ ،وَرِوَايَةَ دَاوُدَ وَعَاصِمٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ قَمِيرَ عَنْ عَائِشَةَ ، تَغْتَسِلُ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّةً ، وَرَوَى هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، الْمُسْتَحَاضَةُ تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ ، وَهَذِهِ الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ ، إِلَّا حَدِيثَ قَمِيرَ ، وَحَدِيثَ عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، وَحَدِيثَ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَالْمَعْرُوفُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : الْغُسْلُ .
´اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں` عدی بن ثابت اور اعمش کی حدیث جو انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے ، اور ایوب ابوالعلاء کی حدیث یہ سب کی سب ضعیف ہیں ، صحیح نہیں ہیں ، اور اعمش کی حدیث جسے انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے ، اس کے ضعف پر یہی حدیث دلیل ہے ، جسے حفص بن غیاث نے اعمش سے موقوفاً روایت کیا ہے ، اور حفص بن غیاث نے حبیب کی حدیث کے مرفوعاً ہونے کا انکار کیا ہے ، نیز اسے اسباط نے بھی اعمش سے ، اور اعمش نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس کے ابتدائی حصہ کو ابن داود نے اعمش سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں ہر نماز کے وقت وضو کے ہونے کا انکار کیا ہے ۔ حبیب کی حدیث کے ضعف کی دلیل یہ بھی ہے کہ زہری کی روایت بواسطہ عروہ ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے ، اس میں یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں ۔ ابوالیقظان نے عدی بن ثابت سے ، عدی نے اپنے والد ثابت سے ، ثابت نے علی رضی اللہ عنہ سے ، اور بنو ہاشم کے غلام عمار نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے ، اور عبدالملک بن میسرہ ، بیان ، مغیرہ ، فراس اور مجالد نے شعبی سے اور شعبی نے قمیر کی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ : ” تم ہر نماز کے لیے وضو کرو “ ۔ اور داود اور عاصم کی روایت میں جسے انہوں نے شعبی سے ، شعبی نے قمیر سے ، اور قمیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ وہ روزانہ ایک بار غسل کرے ۔ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ : ” مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے “ ۔ یہ ساری حدیثیں ضعیف ہیں سوائے تین حدیثوں کے : ایک قمیر کی حدیث ( جو عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ) ، دوسری عمار مولی بنی ہاشم کی حدیث ( جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ) ، اور تیسری ہشام بن عروہ کی حدیث جو ان کے والد سے مروی ہے ، ابن عباس سے مشہور ہر نماز کے لیے غسل ہے ۲؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس سند سے بھی ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں عدی بن ثابت اور اعمش کی حدیث جو انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے، اور ایوب ابوالعلاء کی حدیث یہ سب کی سب ضعیف ہیں، صحیح نہیں ہیں، اور اعمش کی حدیث جسے انہوں نے حبیب سے روایت کیا ہے، اس کے ضعف پر یہی حدیث دلیل ہے، جسے حفص بن غیاث نے اعمش سے موقوفاً روایت کیا ہے، اور حفص بن غیاث نے حبیب کی حدیث کے مرفوعاً ہونے کا انکار کیا ہے، نیز اسے اسباط نے بھی اعمش سے، اور اعمش نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موقوفاً روایت کیا ہے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس کے ابتدائی حصہ کو ابن داود نے اعمش سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور اس میں ہر نماز کے وقت وضو کے ہونے کا انکار کیا ہے۔ حبیب کی حدیث کے ضعف کی دلیل یہ بھی ہے کہ زہری کی روایت بواسطہ عروہ، عائشہ رضی اللہ عنہا سے مستحاضہ کے متعلق مروی ہے، اس میں یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابوالیقظان نے عدی بن ثابت سے، عدی نے اپنے والد ثابت سے، ثابت نے علی رضی اللہ عنہ سے، اور بنو ہاشم کے غلام عمار نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے، اور عبدالملک بن میسرہ، بیان، مغیرہ، فراس اور مجالد نے شعبی سے اور شعبی نے قمیر کی حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ: ”تم ہر نماز کے لیے وضو کرو۔“ اور داود اور عاصم کی روایت میں جسے انہوں نے شعبی سے، شعبی نے قمیر سے، اور قمیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ وہ روزانہ ایک بار غسل کرے۔ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ: ”مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے۔“ یہ ساری حدیثیں ضعیف ہیں سوائے تین حدیثوں کے: ایک قمیر کی حدیث (جو عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے)، دوسری عمار مولی بنی ہاشم کی حدیث (جو ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے)، اور تیسری ہشام بن عروہ کی حدیث جو ان کے والد سے مروی ہے، ابن عباس سے مشہور ہر نماز کے لیے غسل ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 300]
حدیث قمیر، حدیث عمار اور حدیث ہشام، تینوں میں ہر نماز کے لیے صرف وضو کرنے کا حکم ہے، غسل کرنے کا یا دو نمازوں کے لیے ایک غسل کرنے کا نہیں۔ اس لیے مستحاضہ عورت صرف طہر کے وقت غسل کرے گی، اس کے بعد ہر نماز کے لیے صرف وضو کرنا اس کے لیے کافی ہو گا۔