حدیث نمبر: 2991
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمٌ يُدْعَى الصَّفِيَّ إِنْ شَاءَ عَبْدًا وَإِنْ شَاءَ أَمَةً وَإِنْ شَاءَ فَرَسًا يَخْتَارُهُ قَبْلَ الْخُمُسِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عامر شعبی کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حصہ تھا ، جس کو «صفي» کہا جاتا تھا آپ اگر کوئی غلام ، لونڈی یا کوئی گھوڑا لینا چاہتے تو مال غنیمت میں سے خمس سے پہلے لے لیتے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 2991
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, نسائي (4150), السند صحيح إلي الشعبي لكنه مرسل, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 108
تخریج حدیث « سنن النسائی/الفيء 1 (4150)، (تحفة الأشراف: 18868) (ضعیف الإسناد) » (عامر تابعی ہیں، اس لئے یہ روایت مرسل ہے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´خمس سے پہلے صفی یعنی جس مال کو رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے منتخب کر لیتے تھے کا بیان۔`
عامر شعبی کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک حصہ تھا، جس کو «صفي» کہا جاتا تھا آپ اگر کوئی غلام، لونڈی یا کوئی گھوڑا لینا چاہتے تو مال غنیمت میں سے خمس سے پہلے لے لیتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2991]
فوائد ومسائل:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غنیمت میں سے کوئی خاص چیز پسند کرتے تے خمس سے پہلے اسے لے سکتے تھے۔
مثلا۔
لونڈی۔
غلام تلوار۔
یا کوئی بھی چیز اسے صفی کہا جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2991 سے ماخوذ ہے۔