سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي صَفَايَا رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الأَمْوَالِ باب: مال غنیمت میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے جو مال منتخب کیا اس کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، قَالَ : سَمِعْت حَدِيثًا مِن رَجُلٍ فَأَعْجَبَنِي ، فَقُلْتُ : اكْتُبْهُ لِي فَأَتَى بِهِ مَكْتُوبًا مُذَبَّرًا ، دَخَلَ الْعَبَّاسُ ، وَعَلِيٌّ عَلَى عُمَرَ ، وَعِنْدَهُ طَلْحَةُ وَالزُّبَيْرُ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَسَعْدٌ ، وَهُمَا يَخْتَصِمَانِ فَقَالَ عُمَرُ : لِطَلْحَةَ ، وَ الزُّبَيْرِ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَسَعْدٍ : أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " كُلُّ مَالِ النَّبِيِّ صَدَقَةٌ إِلَّا مَا أَطْعَمَهُ أَهْلَهُ وَكَسَاهُمْ إِنَّا لَا نُورَثُ ؟ " قَالُوا : بَلَى قَالَ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ عَلَى أَهْلِهِ وَيَتَصَدَّقُ بِفَضْلِهِ ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَلِيَهَا أَبُو بَكْرٍ سَنَتَيْنِ فَكَانَ يَصْنَعُ الَّذِي كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ .
´ابوالبختری کہتے ہیں` میں نے ایک شخص سے ایک حدیث سنی وہ مجھے انوکھی سی لگی ، میں نے اس سے کہا : ذرا اسے مجھے لکھ کر دو ، تو وہ صاف صاف لکھ کر لایا : علی اور عباس رضی اللہ عنہما عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے اور ان کے پاس طلحہ ، زبیر ، عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم ( پہلے سے ) بیٹھے تھے ، یہ دونوں ( یعنی عباس اور علی رضی اللہ عنہما ) جھگڑنے لگے ، عمر رضی اللہ عنہ نے طلحہ ، زبیر ، عبدالرحمٰن اور سعد رضی اللہ عنہم سے کہا : کیا تم لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” نبی کا سارا مال صدقہ ہے سوائے اس کے جسے انہوں نے اپنے اہل کو کھلا دیا یا پہنا دیا ہو ، ہم لوگوں کا کوئی وارث نہیں ہوتا “ ، لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ( ہم یہ بات جانتے ہیں آپ نے ایسا ہی فرمایا ہے ) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مال میں سے اپنے اہل پر صرف کرتے تھے اور جو کچھ بچ رہتا وہ صدقہ کر دیتے تھے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے آپ کے بعد اس مال کے متولی ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال تک رہے ، وہ ویسے ہی کرتے رہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ، پھر راوی نے مالک بن اوس کی حدیث کا کچھ حصہ ذکر کیا ۔