حدیث نمبر: 297
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فِي الْمُسْتَحَاضَةِ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا ، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي ، وَالْوُضُوءُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : زَادَ عُثْمَانُ : وَتَصُومُ وَتُصَلِّي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عدی بن ثابت کے دادا ۱؎ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا : ” وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑے رہے ، پھر غسل کرے اور نماز پڑھے ، اور ہر نماز کے وقت وضو کرے ۲؎ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عثمان نے یہ اضافہ کیا ہے کہ ” اور روزے رکھے ، اور نماز پڑھے “ ۔

وضاحت:
۱؎: امام مزی نے دینار، جدعدی بن ثابت انصاری کی مسند میں اس حدیث کو ذکر کیا ہے، اور ابوداؤد کا یہ قول نقل کیا ہے: «ھو حدیث ضعیف» (یہ حدیث ضعیف ہے) اور حافظ ابن حجر نے «النکت الظراف» میں لکھا ہے کہ عدی کے دادا کا نام راجح یہ ہے کہ ثابت بن قیس ابن الخطیم ہے (تحفۃ الأشراف: ۳۵۴۲)
۲؎: جمہور کا یہی مذہب ہے، اور دلیل سے یہی قوی ہے، اور ہر نماز کے وقت غسل والی روایتیں استحباب پر محمول ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 297
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (126)،ابن ماجه (625), أبو اليقظان عثمان بن عمير: ضعيف مدلس مختلط،غال في التشيع (وانظر الفتح المبين في تحقيق طبقات المدلسين ص 105), ووالد عدي بن ثابت: مجھول الحال, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 25
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الطھارة 94 (126)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 115 (625)، سنن الدارمی/الطھارة 83 (820)، (تحفة الأشراف: 3542) (صحیح) (اس سندمیں ابوالیقظان ضعیف ہیں، دوسری سندوں اورحدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہوئی ہے) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 126 | سنن ابن ماجه: 625

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مستحاضہ حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل کرے پھر جب دوسرے حیض سے پاک ہو تو غسل کرے (یعنی استحاضہ کے خون میں وضو ہے غسل نہیں ہے)۔`
عدی بن ثابت کے دادا ۱؎ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ کے بارے میں فرمایا: وہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑے رہے، پھر غسل کرے اور نماز پڑھے، اور ہر نماز کے وقت وضو کرے ۲؎۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: عثمان نے یہ اضافہ کیا ہے کہ اور روزے رکھے، اور نماز پڑھے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 297]
297۔ اردو حاشیہ:
اور یہی بات دلائل کے اعتبار سے قوی ہے اور جمہور اسی کے قائل ہیں اور دیگر احادیث کہ ہر نماز کے لیے غسل یا دو نمازوں کے لیے غسل، یہ سب استحباب کے معنی میں ہے۔ یعنی اس عمل کو نفل، مستحب اور باعث اجر و ثواب سمجھا جانا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 297 سے ماخوذ ہے۔

✍️ حافظ عمران ایوب لاہوری
«وَتَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ»

اور ہر نماز کے لیے وضوء کرے گی۔

(1) حضرت عدی بن ثابت عن ابیہ عن جدہ روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ عورت کے متعلق فرمایا کہ وہ اپنے ان ایام ماہواری میں نماز ترک کرے گی جن میں وہ (پہلے) حائضہ ہوتی تھی۔

«ثم تغتسل وتتوضأ عند كل صلاة»

پهر وه غسل کرے گی اور ہر نماز کے لیے وضوء کرے گی۔

[صحيح: صحيح ترمذي 109 كتاب الطهارة: باب ما جاء أن المستحاضة تتوضأ لكل صلاة، ترمذى 126 أبو داود 297 ابن ماجة 625 دارمي 202/1]

(2) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا سے ارشاد فرمایا: «ثم اغتسلي وتوضئ لكل صلاة ثم صلى»

(ایام حیض گزارنے کے بعد) غسل کرو اور ہر نماز کے لیے وضو کرو پھر نماز ادا کرو۔

[صحيح: صحيح أبو داود 287 كتاب الطهارة: باب من قال تغتسل من طهر إلى طهر، أبو داود 298 أحمد 42/6 ابن ماجة 624 نسائي 185/1]

امام شوکانی رقمطراز ہیں کہ ان احادیث سے ثابت ہوا کہ (مستحاضہ عورت پر) ہر نماز کے لیے وضوء واجب ہے اور غسل صرف ایک مرتبہ حیض کے اختتام پر ہی واجب ہے۔ [نيل الأوطار 404/1]

(مالکیہ) مستحاضہ عورت پر اسی طرح ہر نماز کے لیے وضوء مستحب ہے جیسا کہ استحاضہ کے خون کے اختتام پر اس کے لیے غسل مستحب ہے۔

[بداية المجتهد 57/1 القوانين الفقهية ص/26-41]

(جمہور، شافعیہ، حنابلہ حنفیہ) مستحاضہ عورت پر واجب ہے کہ وہ ہر نماز کا وقت ہو جانے پر اپنی شرمگاہ دھوئے اور پھر وضوء کرے۔

[اللباب 51/1 مراقي الفلاح ص 25 مغني المحتاج 1/1 مهذب 45/1 المغنى 340/1]

حضرت علی، حضرت ابن مسعود حضرت عائشہ حضرت عروہ بن زبیر اور حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن رضی اللہ عنہم وغیرہ سے بھی یہی قول مروی ہے جبکہ حضرت ابن عمر، حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہم اور امام عطا بن ابی رباح وغیرہ سے اس کے برخلاف یہ منقول ہے کہ مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے غسل کرے گی۔

[تحفة الأحوذي 425/1]

ہر نماز کے لیے غسل کو واجب کہنے والوں کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث ہے: حضرت ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استحاضہ کے خون کے متعلق مسئلہ پوچھا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا یہ تو صرف ایک رگ ہے: «فاغتسلى ثم صلى فكانت تغتسل لكل صلاة»

لہذا تم غسل کرو پھر نماز پڑھو تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کر لیتی تھیں۔

[ترمذى 129 كتاب الطهارة: باب ما جاء فى المستحاضة أنها تغتسل عند كل صلاة، مسلم 334 أحمد 237/6 أبو داود 285 ابن ماجة 626 نسائي 118/1 دارمي 196/1]

اگرچہ انہوں نے اس حدیث سے استدلال تو کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث وجوب کے قائل حضرات کی دلیل نہیں بنتی کیونکہ اس میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا ہے بلکہ یہ محض حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا اپنا فعل و عمل ہے جو کہ مسلمہ قوانین کے مطابق وجوب کے لیے کافی نہیں ہے۔

(نووی) وہ احادیث جو سنن ابی داود اور بیھقی وغیرہ میں موجود ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا تھا۔ ان میں سے کچھ بھی ثابت نہیں ہے۔ اور امام بیھقی وغیرہ نے تو ان کے ضعف کو واضح کر کے بیان کر دیا ہے۔ [المجموع 536/2]
(شوکانیؒ) ان احادیث کے متعلق کہ جن میں مستحاضہ عورت کے لیے غسل کا حکم ہے حفاظ کی ایک جماعت نے صراحت کی ہے کہ وہ قابل احتجاج نہیں ہیں۔ [نيل الأوطار 149/1]

(شافعیؒ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو غسل کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا اس میں یہ وضاحت نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا۔ [الأم 80/1]

(راجع) استحاضہ کی بیماری میں مبتلا عورت پر ہر نماز کے لیے غسل نہیں بلکہ صرف وضوء واجب ہے اور غسل صرف ایک مرتبہ ایام ماہواری کے اختتام پر ہی واجب ہے۔

[شرح مسلم للنووي 257/2، المجموع 535/2، نيل الأوطار 404/1، السيل الجرار 148/1، الروضة الندية 188/1]

(شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ) انہوں نے اس کے مطابق فتوی دیا ہے۔ [فتاوى المرأة المسلمة 291/1]

واضح رہے کہ اگر مستحاضہ عورت دو نمازوں کو اس طرح جمع کرے کہ پہلی کو مؤخر اور دوسری کو مقدم کرے اور پھر دونوں کے لیے ایک غسل کرے یعنی ظہر و عصر کے لیے ایک غسل، مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل اور فجر کے لیے ایک غسل، تو یہ عمل مندوب و مستحب ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پسند فرمایا ہے۔ جیسا کہ ایک روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ مروی ہیں كه «وهو أعجب الأمرين إلى» ان دونوں باتوں میں سے یہی مجھے زیادہ پسند ہے۔

[حسن: صحيح أبو داود 267، كتاب الطهارة: باب من قال إذا أقبلت الحيضة تدع الصلاة، أبو داود 287، ترمذي 128 أحمد 381/6، الأدب المفرد للبخارى 237، ابن ماجة 627]
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فقہ الحدیث از عمران ایوب لاہوری، جلد اول، ص 276
درج بالا اقتباس فقہ الحدیث، جلد اول، حدیث/صفحہ نمبر: 276 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 126 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مستحاضہ عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے۔`
عدی کے دادا عبید بن عازب رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مستحاضہ کے سلسلہ میں فرمایا: وہ ان دنوں میں جن میں اسے حیض آتا ہو نماز چھوڑے رہے، پھر وہ غسل کرے، اور (استحاضہ کا خون آنے پر) ہر نماز کے لیے وضو کرے، روزہ رکھے اور نماز پڑھے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 126]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کی سند میں ابو الیقظان ضعیف، اور شریک حافظہ کے کمزور ہیں، مگر دوسری سندوں اور حدیثوں سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 126 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 625 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مستحاضہ جس کے حیض کی مدت استحاضہ والے خون سے پہلے متعین ہو اس کے حکم کا بیان۔`
عدی بن ثابت کے دادا دینار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مستحاضہ اپنے حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دے، پھر غسل کرے، اور ہر نماز کے لیے وضو کرے، اور روزے رکھے اور نماز پڑھے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 625]
اردو حاشہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے’’البتہ دیگر شواہد کی بناء پر صحیح ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الأرواء، حدیث: 207)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 625 سے ماخوذ ہے۔