سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي كَرَاهِيَةِ الاِفْتِرَاضِ فِي آخِرِ الزَّمَانِ باب: آخری زمانہ میں عطیہ لینے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ : سَمِعْت رَجُلًا يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَمَرَ النَّاسَ وَنَهَاهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، ثُمَّ قَالَ : إِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْمُلْكِ فِيمَا بَيْنَهَا وَعَادَ الْعَطَاءُ أَوْ كَانَ رِشًا فَدَعُوهُ " ، فَقِيلَ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : هَذَا ذُو الزَّوَائِدِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
´وادی القری کے باشندہ سلیم بن مطیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ` انہوں نے ان سے بیان کیا کہ میں نے ایک شخص کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع میں سنا آپ نے ( لوگوں کو اچھی باتوں کا ) حکم دیا ( اور انہیں بری باتوں سے ) منع کیا پھر فرمایا : ” اے اللہ ! کیا میں نے ( تیرا پیغام ) انہیں پہنچا دیا “ ، لوگوں نے کہا : ہاں ، پہنچا دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب قریش کے لوگ حکومت اور ملک و اقتدار کے لیے لڑنے لگیں اور عطیہ کی حیثیت رشوت کی بن جائے ( یعنی مستحق کے بجائے غیر مستحق کو ملنے لگے ) تو اسے چھوڑ دو “ ۔ پوچھا گیا : یہ کون ہیں ؟ لوگوں نے کہا : یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ذوالزوائد ۱؎ ہیں ۔