سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي قَسْمِ الْفَىْءِ باب: فے یعنی جنگ کے بغیر حاصل ہونے والے مال غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2953
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُصَفَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ جَمِيعًا ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو ،عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ إِذَا أَتَاهُ الْفَيْءُ قَسَمَهُ فِي يَوْمِهِ ، فَأَعْطَى الْآهِلَ حَظَّيْنِ وَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا " ، زَادَ ابْنُ الْمُصَفَّى : فَدُعِينَا وَكُنْتُ أُدْعَى قَبْلَ عَمَّارٍ فَدُعِيتُ فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ وَكَانَ لِي أَهْلٌ ، ثُمَّ دُعِيَ بَعْدِي عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَأَعْطَى لَهُ حَظًّا وَاحِدًا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس دن مال فیٔ آتا آپ اسی دن اسے تقسیم کر دیتے ، شادی شدہ کو دو حصے دیتے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے ، تو ہم بلائے گئے ، اور میں عمار رضی اللہ عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا ، میں بلایا گیا تو مجھے دو حصے دئیے گئے کیونکہ میں شادی شدہ تھا ، اور میرے بعد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بلائے گئے تو انہیں صرف ایک حصہ دیا گیا ( کیونکہ وہ کنوارے تھے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´فے یعنی جنگ کے بغیر حاصل ہونے والے مال غنیمت کی تقسیم کا بیان۔`
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس دن مال فیٔ آتا آپ اسی دن اسے تقسیم کر دیتے، شادی شدہ کو دو حصے دیتے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے، تو ہم بلائے گئے، اور میں عمار رضی اللہ عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا، میں بلایا گیا تو مجھے دو حصے دئیے گئے کیونکہ میں شادی شدہ تھا، اور میرے بعد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بلائے گئے تو انہیں صرف ایک حصہ دیا گیا (کیونکہ وہ کنوارے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2953]
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس دن مال فیٔ آتا آپ اسی دن اسے تقسیم کر دیتے، شادی شدہ کو دو حصے دیتے اور کنوارے کو ایک حصہ دیتے، تو ہم بلائے گئے، اور میں عمار رضی اللہ عنہ سے پہلے بلایا جاتا تھا، میں بلایا گیا تو مجھے دو حصے دئیے گئے کیونکہ میں شادی شدہ تھا، اور میرے بعد عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما بلائے گئے تو انہیں صرف ایک حصہ دیا گیا (کیونکہ وہ کنوارے تھے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2953]
فوائد ومسائل:
بیت المال میں سے اسلام کے لئے خدمات کے ساتھ ساتھ ذاتی احوال کے حوالے سے بھی ایک مسلمان کی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔
جس کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتیں اس کا حصہ بھی زیادہ ہوتا۔
جبکہ دیگر نظام ہائے معیشت میں بالعموم اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔
نیز حقوق کی ادایئگی میں تاخیر کرنا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔
بیت المال میں سے اسلام کے لئے خدمات کے ساتھ ساتھ ذاتی احوال کے حوالے سے بھی ایک مسلمان کی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے۔
جس کی ذمہ داریاں زیادہ ہوتیں اس کا حصہ بھی زیادہ ہوتا۔
جبکہ دیگر نظام ہائے معیشت میں بالعموم اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔
نیز حقوق کی ادایئگی میں تاخیر کرنا کسی طرح مناسب نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2953 سے ماخوذ ہے۔