حدیث نمبر: 2948
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا مَرْيَمَ الأَزْدِيَّ أَخْبَرَهُ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ : مَا أَنْعَمَنَا بِكَ أَبَا فُلَانٍ ، وَهِيَ كَلِمَةٌ تَقُولُهَا الْعَرَبُ ، فَقُلْتُ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ وَلَّاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ فَاحْتَجَبَ دُونَ حَاجَتِهِمْ وَخَلَّتِهِمْ وَفَقْرِهِمُ احْتَجَبَ اللَّهُ عَنْهُ دُونَ حَاجَتِهِ وَخَلَّتِهِ وَفَقْرِهِ ، قَالَ : فَجَعَلَ رَجُلًا عَلَى حَوَائِجِ النَّاسِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابومریم ازدی ( اسدی ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس گیا ، انہوں نے کہا : اے ابوفلاں ! بڑے اچھے آئے ، میں نے کہا : میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بتا رہا ہوں ، میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے : ” جسے اللہ مسلمانوں کے کاموں میں سے کسی کام کا ذمہ دار بنائے پھر وہ ان کی ضروریات اور ان کی محتاجی و تنگ دستی کے درمیان رکاوٹ بن جائے ۱؎ تو اللہ اس کی ضروریات اور اس کی محتاجی و تنگ دستی کے درمیان حائل ہو جاتا ہے ۲؎ “ ۔ یہ سنا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو مقرر کر دیا جو لوگوں کی ضروریات کو سنے اور اسے پورا کرے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی ان کی ضروریات پوری نہ کرے اور ان کی محتاجی و تنگ دستی دور نہ کرے۔
۲؎: یعنی اللہ تعالی بھی اس کی حاجت و ضروریات پوری نہیں کرتا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 2948
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3728، 3729), أخرجه الترمذي (1333 وسنده حسن)
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأحکام 6 (1333)، (تحفة الأشراف: 12173) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 1198

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´امام پر رعایا کے کیا حقوق ہیں؟ اور ان حقوق کے درمیان رکاوٹ بننے کا وبال۔`
ابومریم ازدی (اسدی) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، انہوں نے کہا: اے ابوفلاں! بڑے اچھے آئے، میں نے کہا: میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بتا رہا ہوں، میں نے آپ کو فرماتے سنا ہے: جسے اللہ مسلمانوں کے کاموں میں سے کسی کام کا ذمہ دار بنائے پھر وہ ان کی ضروریات اور ان کی محتاجی و تنگ دستی کے درمیان رکاوٹ بن جائے ۱؎ تو اللہ اس کی ضروریات اور اس کی محتاجی و تنگ دستی کے درمیان حائل ہو جاتا ہے ۲؎۔‏‏‏‏ یہ سنا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2948]
فوائد ومسائل:
غیر شرعی اور غیر اسلامی سیاست میں یہ ہوتا ہے کہ حاکم اور رعیت میں فاصلہ ضروری سمجھا جاتا ہے۔
ان کا وہم ہے کہ عوام سے بہت زیادہ میل جول ہیبت اور رعب داب کو کم کردیتا ہے۔
جبکہ اسلامی سیاست اس کے برخلاف ہے۔
حاکم ان کا راعی اور خدمت گار ہے۔
اس کاعوام سے ملنے سے گریز کرنا اور ان کی ضروریات کو پوری نہ کرنا دنیا اور آخرت کا نقصان ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گورنروں کی سخت سرزنش کرتے، اگر یہ معلوم ہوتا کہ عام لوگ بلا روک ٹوک ان سے نہیں مل سکتے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2948 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1198 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´(قضاء کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابو مریم ازدی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے کسی کام کا حاکم بنا دیا اور وہ پردہ میں رہا۔ ان کی ضروریات اور ان کی حاجات پوری کرنے میں اللہ تعالیٰ بھی پردہ میں رہے گا اس کی حاجات پوری کرنے میں۔ (ابوداؤد و ترمذی) «بلوغ المرام/حدیث: 1198»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، الخراج والإمارة، باب فيما يلزم الإمام من أمر الرعية...، حديث:2948، والترمذي، الأحكام، حديث:1332 وقال: غريب.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«حضرت ابو مریم ازدی رضی اللہ عنہ» ازدی‘ اسدی دونوں طرح مشہور ہیں‘ حضرمی بھی کہا جاتا تھا۔
شرف صحابیت سے مشرف تھے۔
شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انھیں یہ حدیث بیان کی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1198 سے ماخوذ ہے۔