حدیث نمبر: 2945
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ الرَّقِّيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعَافَى ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ كَانَ لَنَا عَامِلًا فَلْيَكْتَسِبْ زَوْجَةً ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَكْتَسِبْ خَادِمًا ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَسْكَنٌ فَلْيَكْتَسِبْ مَسْكَنًا ، قَالَ : قَالَ أَبُو بَكْرٍ : أُخْبِرْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنِ اتَّخَذَ غَيْرَ ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ أَوْ سَارِقٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے آپ کہہ رہے تھے : ” جو شخص ہمارا عامل ہو وہ ایک بیوی کا خرچ بیت المال سے لے سکتا ہے ، اگر اس کے پاس کوئی خدمت گار نہ ہو تو ایک خدمت گار رکھ لے اور اگر رہنے کے لیے گھر نہ ہو تو رہنے کے لیے مکان لے لے “ ۔ مستورد کہتے ہیں : ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ان چیزوں کے سوا اس میں سے لے تو وہ خائن یا چور ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 2945
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح, مشكوة المصابيح (3751), صححه ابن خزيمة (2370 وسنده صحيح)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 11260)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/229) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ملازمین کی تنخواہ کا بیان۔`
مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے آپ کہہ رہے تھے: جو شخص ہمارا عامل ہو وہ ایک بیوی کا خرچ بیت المال سے لے سکتا ہے، اگر اس کے پاس کوئی خدمت گار نہ ہو تو ایک خدمت گار رکھ لے اور اگر رہنے کے لیے گھر نہ ہو تو رہنے کے لیے مکان لے لے۔‏‏‏‏ مستورد کہتے ہیں: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ان چیزوں کے سوا اس میں سے لے تو وہ خائن یا چور ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2945]
فوائد ومسائل:
نکاح کرنا خادم اور رہائش (گھریلواخراجات سمیت) حاصل کرنا عمال حکومت کے لازمی بنیادی حقوق میں سے ہیں۔
آج کل ملازمین کا بری طرح استحصال کیا جاتا ہے۔
اور مجبوری کے عالم میں ان کو اتنا کم معاوضہ قبول کرنا پڑتا ہے۔
جس سے ان کی مذکورہ بالا بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں۔
یہ سرا سر ظلم نا انصافی ہے۔
جس کا اسلام میں کوئی جواز نہیں ہے۔
بالخصوص جب کہ افسران بالا اور حکمران طبقہ اپنے لئے قومی خزانے سے اتنی سہولتیں اور مراعات حاصل کرلیں کہ اللہ کی پناہ۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2945 سے ماخوذ ہے۔