سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي أَرْزَاقِ الْعُمَّالِ باب: ملازمین کی تنخواہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2944
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ : اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ عَلَى الصَّدَقَةِ فَلَمَّا فَرَغْتُ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ ، فَقُلْتُ : إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ ، قَالَ : خُذْ مَا أُعْطِيتَ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَمَّلَنِي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن الساعدی ( عبداللہ بن عمرو السعدی القرشی العامری ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ ( وصولی ) پر عامل مقرر کیا جب میں اس کام سے فارغ ہوا تو عمر رضی اللہ عنہ نے میرے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا ، میں نے کہا : میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا ہے ، انہوں نے کہا : جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو ، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ( زکاۃ کی وصولی کا ) کام کیا تھا تو آپ نے مجھے اجرت دی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ملازمین کی تنخواہ کا بیان۔`
ابن الساعدی (عبداللہ بن عمرو السعدی القرشی العامری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ (وصولی) پر عامل مقرر کیا جب میں اس کام سے فارغ ہوا تو عمر رضی اللہ عنہ نے میرے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا، میں نے کہا: میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا ہے، انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (زکاۃ کی وصولی کا) کام کیا تھا تو آپ نے مجھے اجرت دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2944]
ابن الساعدی (عبداللہ بن عمرو السعدی القرشی العامری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ (وصولی) پر عامل مقرر کیا جب میں اس کام سے فارغ ہوا تو عمر رضی اللہ عنہ نے میرے کام کی اجرت دینے کا حکم دیا، میں نے کہا: میں نے یہ کام اللہ کے لیے کیا ہے، انہوں نے کہا: جو تمہیں دیا جائے اسے لے لو، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (زکاۃ کی وصولی کا) کام کیا تھا تو آپ نے مجھے اجرت دی۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2944]
فوائد ومسائل:
1۔
واجب ہے کہ جس کسی سے کوئی کام لیا جائے۔
تو اس کا حق الخدمت بھی ادا کیا جائے۔
اس طرح کام کرنے والے پر فی الواقع ایک ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے۔
اور تقصیرکی صورت میں جواب طلبی کا حق بھی موجود رہتا ہے۔
ورنہ غفلت کر جانے کا پہلوغالب رہے گا۔
2۔
راوی حدیث کو ابن السعدی بھی کہا گیا ہے اور اس کا اصل نام عبد اللہ یا عمرو یا قدامہ روایت ہوا ہے۔
1۔
واجب ہے کہ جس کسی سے کوئی کام لیا جائے۔
تو اس کا حق الخدمت بھی ادا کیا جائے۔
اس طرح کام کرنے والے پر فی الواقع ایک ذمہ داری عائد ہو جاتی ہے۔
اور تقصیرکی صورت میں جواب طلبی کا حق بھی موجود رہتا ہے۔
ورنہ غفلت کر جانے کا پہلوغالب رہے گا۔
2۔
راوی حدیث کو ابن السعدی بھی کہا گیا ہے اور اس کا اصل نام عبد اللہ یا عمرو یا قدامہ روایت ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2944 سے ماخوذ ہے۔