حدیث نمبر: 2941
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه أخبرته عن بَيْعَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النِّسَاءَ ، قَالَتْ : مَا مَسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ إِلَّا أَنْ يَأْخُذَ عَلَيْهَا فَإِذَا أَخَذَ عَلَيْهَا فَأَعْطَتْهُ ، قَالَ : "اذْهَبِي فَقَدْ بَايَعْتُكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے کس طرح بیعت لیا کرتے تھے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی اجنبی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا ، البتہ عورت سے عہد لیتے جب وہ عہد دے دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” جاؤ میں تم سے بیعت لے چکا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 2941
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (7214) صحيح مسلم (1866)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/الإمارة 21 (1866)، سنن الترمذی/تفسیر القرآن 60 (3306) (تحفة الأشراف: 16600)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/تفسیر سورة الممتحنة 2 (4891)، والطلاق 20 (5288)، والأحکام 49 (7214)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 43 (2875)، مسند احمد (6/114) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´بیعت کا بیان۔`
عروہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں سے کس طرح بیعت لیا کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی اجنبی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا، البتہ عورت سے عہد لیتے جب وہ عہد دے دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: جاؤ میں تم سے بیعت لے چکا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2941]
فوائد ومسائل:
رسول اللہ ﷺ افراد امت کےلئے بمنزلہ باپ ہوتے ہوئے بعیت جیسےاہم شرعی معاملے میں اجنبی عورتوں سے ہاتھ نہیں ملاتے تھے۔
دوسروں کو اور زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔
ایسے ہی عورتوں پر بھی واجب ہے کہ وہ اجانب (غیرمحرم مردوں) سے مصافحہ اور اختلاط سے بچیں۔


شرعی آداب کو ملحوظ رکھ کر اجنبی عورتوں سے حسب ضرورت جائز معاملات کے بارے میں بات چیت کر لینی جائز ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2941 سے ماخوذ ہے۔