سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي السِّعَايَةِ عَلَى الصَّدَقَةِ باب: زکاۃ وصول کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2938
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ مَغْرَاءَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق ، قَالَ : الَّذِي يَعْشُرُ النَّاسَ يَعْنِي صَاحِبَ الْمَكْسِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابن اسحاق کہتے ہیں کہ` صاحب مکس وہ ہے جو لوگوں سے عشر لیتا ہے ( بشرطیکہ وہ ظلم و تعدی سے کام لے رہا ہو ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´زکاۃ وصول کرنے کا بیان۔`
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ صاحب مکس وہ ہے جو لوگوں سے عشر لیتا ہے (بشرطیکہ وہ ظلم و تعدی سے کام لے رہا ہو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2938]
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ صاحب مکس وہ ہے جو لوگوں سے عشر لیتا ہے (بشرطیکہ وہ ظلم و تعدی سے کام لے رہا ہو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2938]
فوائد ومسائل:
اس بھتے کی شرح خواہ کچھ بھی ہو ناجائز ہے۔
اس میں آج کل کی حکومتوں کے عائد کردہ ناجائز ٹیکس بھی آجاتے ہیں۔
جو وصول کرنے کے بعد حکمرانوں کے اللوں تللوں پر خرچ ہوتے ہیں۔
حکومتیں اپنے ناجائز اخراجات کم نہیں کرتیں۔
لیکن عوام پر آئے دن اس قسم کے ٹیکس عائد کرتی رہتی ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ آج کل ٹیکسوں کے بغیر حکومت اور ملک کا چلانا ناممکن ہے۔
اسی لئے حکومتوں کے لئے ٹیکسوں کا جواز رکھا گیا ہے۔
لیکن اس جواز کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اپنے ناجائز اخراجات کو تو ختم کریں اور عوام پر اندھا دھند ٹیکس عائد کرتی جایئں۔
ٹیکسوں کا یہ انداز اور طریقہ صریح ظلم ہے۔
جس کا کوئی جواز نہیں۔
اس بھتے کی شرح خواہ کچھ بھی ہو ناجائز ہے۔
اس میں آج کل کی حکومتوں کے عائد کردہ ناجائز ٹیکس بھی آجاتے ہیں۔
جو وصول کرنے کے بعد حکمرانوں کے اللوں تللوں پر خرچ ہوتے ہیں۔
حکومتیں اپنے ناجائز اخراجات کم نہیں کرتیں۔
لیکن عوام پر آئے دن اس قسم کے ٹیکس عائد کرتی رہتی ہے۔
یہ ٹھیک ہے کہ آج کل ٹیکسوں کے بغیر حکومت اور ملک کا چلانا ناممکن ہے۔
اسی لئے حکومتوں کے لئے ٹیکسوں کا جواز رکھا گیا ہے۔
لیکن اس جواز کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اپنے ناجائز اخراجات کو تو ختم کریں اور عوام پر اندھا دھند ٹیکس عائد کرتی جایئں۔
ٹیکسوں کا یہ انداز اور طریقہ صریح ظلم ہے۔
جس کا کوئی جواز نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2938 سے ماخوذ ہے۔