سنن ابي داود
كتاب الخراج والفيء والإمارة— کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل
باب فِي السِّعَايَةِ عَلَى الصَّدَقَةِ باب: زکاۃ وصول کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2937
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” صاحب مکس ( قدر واجب سے زیادہ زکاۃ وصول کرنے والا ) جنت میں نہ جائے گا ( کیونکہ یہ ظلم ہے ) “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´زکاۃ وصول کرنے کا بیان۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” صاحب مکس (قدر واجب سے زیادہ زکاۃ وصول کرنے والا) جنت میں نہ جائے گا (کیونکہ یہ ظلم ہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2937]
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ” صاحب مکس (قدر واجب سے زیادہ زکاۃ وصول کرنے والا) جنت میں نہ جائے گا (کیونکہ یہ ظلم ہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2937]
فوائد ومسائل:
یہ حدیث ضعیف ہے، مگر اس میں شک نہہیں کہ شرعی اور حکومتی ضابطہ کے بغیر کسی قسم کا بھتہ لینا حرام، ظلم اور کبیرہ گناہ ہے۔
یہ حدیث ضعیف ہے، مگر اس میں شک نہہیں کہ شرعی اور حکومتی ضابطہ کے بغیر کسی قسم کا بھتہ لینا حرام، ظلم اور کبیرہ گناہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2937 سے ماخوذ ہے۔