حدیث نمبر: 2935
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : السِّجِلُّ كَاتِبٌ كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` سجل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب ( منشی یا محرر ) تھے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ابن القیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ حدیث موضوع ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتبین وحی میں سے کسی بھی کاتب کا نام سجل نہیں تھا بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ صحابہ میں سے کسی بھی صحابی کا نام سجل نہیں تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الخراج والفيء والإمارة / حدیث: 2935
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ضعيف, يزيد بن كعب : مجهول (تق : 7766) لم يوثقه غير ابن حبان وللحديث طريق آخر ضعيف عندالخطيب (175/8), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 106
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5365) (ضعیف) » (اس کے راوی یزید بن کعب مجہول ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سکریٹری اور منشی رکھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سجل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب (منشی یا محرر) تھے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 2935]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم جن کے ذمہ اہم ذمہ داریاں ہوں۔
انھیں اپنے تعاون کےلئے مختلف افراد کو متعین کرلینا مناسب ہے۔
(دیکھئے حدیث2932) یہی وہ بنیاد ہے جس پر پوری انتظامی سروس قائم کی گئی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2935 سے ماخوذ ہے۔