سنن ابي داود
كتاب الفرائض— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
باب فِي الْمَرْأَةِ تَرِثُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا باب: عورت اپنے شوہر کی دیت سے حصہ پائے گی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِح ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، قَالَ : كَانَ عُمَرُ بْنُ الخَطَّابِ يَقُولُ : الدِّيَةُ للْعَاقِلةِ وَلا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا حَتَّى قَالَ لهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيَّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَرَجَعَ عُمْرُ ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِح ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، عَنْ مُعَمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، وَقَالَ فِيهِ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الأَعْرَابِ .
´سعید کہتے ہیں کہ` عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پہلے کہتے تھے کہ دیت کنبہ والوں پر ہے ، اور عورت اپنے شوہر کی دیت سے کچھ حصہ نہ پائے گی ، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھ بھیجا تھا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو میں اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دلاؤں ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا ۱؎ ۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر کے واسطہ سے بیان کی ہے وہ اسے زہری سے اور وہ سعید سے روایت کرتے ہیں ، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( یعنی ضحاک کو ) دیہات والوں پر عامل بنایا تھا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سعید کہتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پہلے کہتے تھے کہ دیت کنبہ والوں پر ہے، اور عورت اپنے شوہر کی دیت سے کچھ حصہ نہ پائے گی، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھ بھیجا تھا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو میں اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دلاؤں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا ۱؎۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر کے واسطہ سے بیان کی ہے وہ اسے زہری سے اور وہ سعید سے روایت کرتے ہیں، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (یعنی ضحاک کو) دیہات والوں پر عامل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2927]
1۔
مقتول کے سلسلے میں ملنے والی دیت اس کی ملکیت شمار ہوکر اس کے شرعی وارثوں میں تقسیم ہوگی۔
جن میں سے ایک وارث بیوی بھی ہے۔
2۔
کسی بھی مسلمان کو روا نہیں کہ صحیح احادیث کے ہوتے ہوئے آئمہ مجتہدین کے فتویٰ رائے یا اجتہاد کو ترجیح دے۔
3۔
اشیم ضبابی کو ابن عبد البر نے صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین میں شمار کیا ہے۔
اور ضبابی کے متعلق لکھتے ہیں۔
کہ یہ ضباب کی طرف نسبت ہے۔
جو کہ کوفہ میں ایک قلعہ ہے۔
(عون المعبود)
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر رضی الله عنہ کہتے تھے: دیت کی ادائیگی عاقلہ ۱؎ پر ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت سے میراث میں کچھ نہیں پائے گی، یہاں تک کہ ان کو ضحاک بن سفیان کلابی نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھا تھا: " اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت سے میراث دو " ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1415]
وضاخت: 1؎:
دیت کے باب میں عقل، عقول اور عاقلہ کا ذکر اکثر آتا ہے اس لیے اس کی وضاحت ضروری ہے: عقل دیت کا ہم معنی ہے، اس کی اصل یہ ہے کہ قاتل جب کسی کو قتل کرتا تودیت کی ادائیگی کے لیے اونٹوں کو جمع کرتا، پھر انہیں مقتول کے اولیاء کے گھر کے سامنے رسیوں میں باندھ دیتا، اسی لیے دیت کا نام عقل پڑگیا، اس کی جمع عقول آتی ہے، اور عاقلہ باپ کی جہت سے قاتل کے وہ قریبی لوگ ہیں جو قتل خطا کی صورت میں دیت کی ادائیگی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔
2؎:
سنن ابوداؤد کی روایت میں ا تنا اضافہ ہے کہ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے اس قول ’’بیوی شوہر کی دیت سے میراث نہیں پائے گی‘‘ سے رجوع کرلیا۔
نوٹ:
(شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ سعید بن المسیب کے عمر رضی اللہ عنہ سے سماع میں اختلاف ہے، ملاحظہ ہو صحیح ابی داؤد رقم: 2599)