حدیث نمبر: 2925
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وأبو أسامة ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَأَيُّمَا حِلْفٍ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( زمانہ کفر کی ) کوئی بھی قسم اور عہد و پیمان کا اسلام میں کچھ اعتبار نہیں ، اور جو عہد و پیمان زمانہ جاہلیت میں ( بھلے کام کے لیے ) تھا تو اسلام نے اسے مزید مضبوطی بخشی ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: کفار عرب کا دستور تھا کہ ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ کا ہم حلیف ہوتا، اور ہر ایک دوسرے کا حق و ناحق میں مدد کرتا تھا، سو فرمایا کہ اسلام میں کفر کی قسم اور عہد و پیمان کا کوئی اعتبار نہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2925
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم (2530)
تخریج حدیث « صحیح مسلم/فضائل الصحابة 50 (2530)، (تحفة الأشراف: 3184)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/83) (صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2530

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قول و قرار پر قسمیں کھانے اور حلف اٹھانے کا بیان۔`
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (زمانہ کفر کی) کوئی بھی قسم اور عہد و پیمان کا اسلام میں کچھ اعتبار نہیں، اور جو عہد و پیمان زمانہ جاہلیت میں (بھلے کام کے لیے) تھا تو اسلام نے اسے مزید مضبوطی بخشی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2925]
فوائد ومسائل:
اسلام نے اپنے معتقدین کو ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنایا ہے۔
جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔
(إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ) (الحجرات:10) مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔
چنانچہ واجب ہے کہ یہ ایک جان اور ایک جسم بن کر رہیں۔
انہیں اب کوئی ضرورت نہیں کہ قبل از اسلام کے انداز میں مصنوعی معاہدے کرتے پھریں۔
بلکہ یہ چیز ان کے عقیدے اور عمل کا بنیادی عنصر ہے۔
بہرحال جو معاہدات اس سے پہلے ہوچکے ہیں۔
اسلام انہیں خیر وصلاح کی بنیاد پر اور مظبوط بناتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2925 سے ماخوذ ہے۔