حدیث نمبر: 2923
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَعْنَى ، قَالَ أَحْمَدُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ ، قَالَ : كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَى أُمِّ سَعْدٍ بِنْتِ الرَّبِيعِ ، وَكَانَتْ يَتِيمَةً فِي حِجْرِ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَرَأْتُ 0 وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ 0 ، فَقَالَتْ : لَا تَقْرَأْ 0 وَالَّذِينَ عَاقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ 0 وَلَكِنْ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ سورة النساء آية 33 ، إِنَّمَا نَزَلَتْ فِي أَبِي بَكْرٍ ، وَ ابْنِهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حِينَ أَبَى الْإِسْلَامَ ، فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَلَّا يُوَرِّثَهُ ، فَلَمَّا أَسْلَمَ أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ عَلَيْهِ السَّلَام أَنْ يُؤْتِيَهُ نَصِيبَهُ ، زَادَ عَبْدُ الْعَزِيزِ فَمَا أَسْلَمَ حَتَّى حُمِلَ عَلَى الْإِسْلَامِ بِالسَّيْفِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : مَنْ قَالَ عَقَدَتْ جَعَلَهُ حِلْفًا ، وَمَنْ قَالَ عَاقَدَتْ جَعَلَهُ حَالِفًا ، وَالصَّوَابُ حَدِيثُ طَلْحَةَ عَاقَدَتْ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´داود بن حصین کہتے ہیں کہ` میں ام سعد بنت ربیع سے ( کلام پاک ) پڑھتا تھا وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زیر پرورش ایک یتیم بچی تھیں ، میں نے اس آیت «والذين عقدت أيمانكم» کو پڑھا تو کہنے لگیں : اس آیت کو نہ پڑھو ، یہ ابوبکر اور ان کے بیٹے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما کے متعلق اتری ہے ، جب عبدالرحمٰن نے مسلمان ہونے سے انکار کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھا لی کہ میں ان کو وارث نہیں بناؤں گا پھر جب وہ مسلمان ہو گئے تو اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ ( ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہیں ) کہ وہ ان کا حصہ دیں ۔ عبدالعزیز کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ عبدالرحمٰن تلوار کے دباؤ میں آ کر مسلمان ہوئے ( یعنی جب اسلام کو غلبہ حاصل ہوا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جس نے «عقدت» کہا اس نے اس سے «حلف» اور جس نے «عاقدت» کہا اس نے اس سے «حالف» مراد لیا اور صحیح طلحہ کی حدیث ہے جس میں «عاقدت» ہے ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ یہ منسوخ ہو گئی ہے یا کسی ایک شخص کے لئے مخصوص تھی، نہ پڑھنے سے مراد یہ ہے کہ اس پر عمل نہ کرو۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2923
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن إسحاق عنعن, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 106
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18320) (ضعیف) » (اس کے راوی ابن اسحاق مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رشتے کی میراث سے حلف و اقرار سے حاصل ہونے والی میراث کی منسوخی کا بیان۔`
داود بن حصین کہتے ہیں کہ میں ام سعد بنت ربیع سے (کلام پاک) پڑھتا تھا وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زیر پرورش ایک یتیم بچی تھیں، میں نے اس آیت «والذين عقدت أيمانكم» کو پڑھا تو کہنے لگیں: اس آیت کو نہ پڑھو، یہ ابوبکر اور ان کے بیٹے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما کے متعلق اتری ہے، جب عبدالرحمٰن نے مسلمان ہونے سے انکار کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھا لی کہ میں ان کو وارث نہیں بناؤں گا پھر جب وہ مسلمان ہو گئے تو اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہیں) کہ وہ ان کا حص۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2923]
فوائد ومسائل:
مذکورہ قراءت شاذ ہے۔
علاوہ ازیں امام ابو دائود کے حدیث طلحہ (حدیث 2922) کو زیادہ صحیح قرا ر دینے کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ عاقدت (الف کے ساتھ)قرات زیادہ صحیح ہے۔
لیکن حافظ ابن کثیر نے اس سے اختلاف کیا ہے۔
اور عقدت ہی کو زیادہ صحیح کہا ہے۔
(عون المعبود)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2923 سے ماخوذ ہے۔