سنن ابي داود
كتاب الطهارة— کتاب: طہارت کے مسائل
باب مَنْ رَوَى أَنَّ الْمُسْتَحَاضَةَ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلاَةٍ باب: مستحاضہ ہر نماز کے لیے غسل کرے۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ عَبْدَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : اسْتُحِيضَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلَاةٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ ، قَالَ : تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ عَبْدِ الصَّمَدِ ، وَالْقَوْلُ فِيهِ قَوْلُ أَبِي الْوَلِيدِ .
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں استحاضہ کی شکایت ہوئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا ، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوالولید طیالسی نے روایت کیا ہے لیکن اسے میں نے ان سے نہیں سنا ہے ، انہوں نے سلیمان بن کثیر سے ، سلیمان نے زہری سے ، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ، وہ کہتی ہیں : ام المؤمنین زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم ہر نماز کے لیے غسل کر لیا کرو “ ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نیز اسے عبدالصمد نے سلیمان بن کثیر سے روایت کیا ہے ، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ہر نماز کے لیے وضو کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ عبدالصمد کا وہم ہے اور اس سلسلے میں ابوالولید کا قول ہی صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں استحاضہ کی شکایت ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوالولید طیالسی نے روایت کیا ہے لیکن اسے میں نے ان سے نہیں سنا ہے، انہوں نے سلیمان بن کثیر سے، سلیمان نے زہری سے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں: ام المؤمنین زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم ہر نماز کے لیے غسل کر لیا کرو“، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے عبدالصمد نے سلیمان بن کثیر سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ہر نماز کے لیے وضو کرو۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبدالصمد کا وہم ہے اور اس سلسلے میں ابوالولید کا قول ہی صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 292]
شیخ البانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ابوالولید طیالسی کی روایت میں صحیح تر یہ ہے کہ یہ خاتون ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں۔