حدیث نمبر: 292
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ عَبْدَةَ ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرَهَا بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ مِنْهُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : اسْتُحِيضَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اغْتَسِلِي لِكُلِّ صَلَاةٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَرَوَاهُ عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ ، قَالَ : تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلَاةٍ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ عَبْدِ الصَّمَدِ ، وَالْقَوْلُ فِيهِ قَوْلُ أَبِي الْوَلِيدِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں استحاضہ کی شکایت ہوئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا ، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابوالولید طیالسی نے روایت کیا ہے لیکن اسے میں نے ان سے نہیں سنا ہے ، انہوں نے سلیمان بن کثیر سے ، سلیمان نے زہری سے ، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ، وہ کہتی ہیں : ام المؤمنین زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم ہر نماز کے لیے غسل کر لیا کرو “ ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نیز اسے عبدالصمد نے سلیمان بن کثیر سے روایت کیا ہے ، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ہر نماز کے لیے وضو کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ عبدالصمد کا وہم ہے اور اس سلسلے میں ابوالولید کا قول ہی صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 292
درجۂ حدیث شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, محمد بن إسحاق بن يسار عنعن (تقدم: 47), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 24
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 16610،16460)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/237) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´مستحاضہ ہر نماز کے لیے غسل کرے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں استحاضہ کی شکایت ہوئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا، اور پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوالولید طیالسی نے روایت کیا ہے لیکن اسے میں نے ان سے نہیں سنا ہے، انہوں نے سلیمان بن کثیر سے، سلیمان نے زہری سے، زہری نے عروہ سے اور عروہ نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے، وہ کہتی ہیں: ام المؤمنین زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ہر نماز کے لیے غسل کر لیا کرو، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسے عبدالصمد نے سلیمان بن کثیر سے روایت کیا ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہر نماز کے لیے وضو کرو۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عبدالصمد کا وہم ہے اور اس سلسلے میں ابوالولید کا قول ہی صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 292]
292۔ اردو حاشیہ:
شیخ البانی رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ابوالولید طیالسی کی روایت میں صحیح تر یہ ہے کہ یہ خاتون ام حبیبہ بنت جحش رضی اللہ عنہا تھیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 292 سے ماخوذ ہے۔