حدیث نمبر: 2918
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ ، وهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ ابْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَوْهَبٍ ، يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ ، قَالَ هِشَامٌ ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَقَالَ يَزِيدُ: إِنَّ تَمِيمًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ يُسْلِمُ عَلَى يَدَيِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ؟ قَالَ : " هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِمَحْيَاهُ وَمَمَاتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص کے بارے میں شرع کا کیا حکم ہے جو کسی مسلمان شخص کے ہاتھ پر ایمان لایا ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص دوسروں کی بہ نسبت اس کی موت و حیات کے زیادہ قریب ہے ( اگر اس کا کوئی اور وارث نہ ہو تو وہی وارث ہو گا ) “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2918
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه الترمذي (2112) وابن ماجه (2752) ولم أر لمضعفه حجة قوية
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الفرائض 20 (2112)، سنن ابن ماجہ/الفرائض 18 (2752)، (تحفة الأشراف: 2052)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/102، 103)، سنن الدارمی/الفرائض 34 (3076) (حسن صحیح) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2112 | سنن ابن ماجه: 2752

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2752 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´نو مسلم کا وارث وہ ہے جس کے ہاتھ پر اس نے اسلام قبول کیا ہے۔`
عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ میں نے تمیم داری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اہل کتاب کا کوئی آدمی اگر کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے تو اس میں شرعی حکم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زندگی اور موت دونوں حالتوں میں وہ اس کا زیادہ قریبی ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2752]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
یہ بھی ولاء کی ایک صورت ہے کہ ایک غیر مسلم کسی مسلمان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرے۔
اس نو مسلم کے دوسرے رشتے دار غیر مسلم ہونے کی وجہ سے اس کے وارث نہیں ہوسکتے، اس لیے یہی اس کا وارث ہوگا۔

(2)
اگر نو مسلم کے دوسرے مسلمان وارث موجود ہوں تو وہی اس کا ترکہ لیں گے، البتہ اگر وہ اصحاب الفروض ہوں اور ا س کا کوئی عصبہ رشتے دار مسلمان نہ ہو تو مسلمان کرنے والا اس نو مسلم کا عصبہ ہوکر وارث ہوگا۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2752 سے ماخوذ ہے۔