حدیث نمبر: 2908
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، أَخْبَرَنِي عِيسَى أَبُو مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل مروی ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2908
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الوليد بن مسلم لم يصرح بالسماع المسلسل وكان يدلس تدليس التسوية, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 105
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8771) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´لعان کی ہوئی عورت کے بچے کی میراث کا بیان۔`
اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2908]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
چونکہ ایسے بچے کا نسب باپ سے منقطع ہونے کے بعد ماں سے لاحق ہو جاتا ہے۔
اس لئے وہی اس کی وارث ہوگی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2908 سے ماخوذ ہے۔