سنن ابي داود
كتاب الفرائض— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
باب مِيرَاثِ ابْنِ الْمُلاَعِنَةِ باب: لعان کی ہوئی عورت کے بچے کی میراث کا بیان۔
حدیث نمبر: 2908
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، أَخْبَرَنِي عِيسَى أَبُو مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل مروی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´لعان کی ہوئی عورت کے بچے کی میراث کا بیان۔`
اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2908]
اس سند سے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2908]
فوائد ومسائل:
فائدہ۔
چونکہ ایسے بچے کا نسب باپ سے منقطع ہونے کے بعد ماں سے لاحق ہو جاتا ہے۔
اس لئے وہی اس کی وارث ہوگی۔
فائدہ۔
چونکہ ایسے بچے کا نسب باپ سے منقطع ہونے کے بعد ماں سے لاحق ہو جاتا ہے۔
اس لئے وہی اس کی وارث ہوگی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2908 سے ماخوذ ہے۔