سنن ابي داود
كتاب الفرائض— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
باب فِي مِيرَاثِ ذَوِي الأَرْحَامِ باب: ذوی الارحام کی میراث کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ جِبْرِيلَ بْنِ أَحْمَرَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " إِنَّ عِنْدِي مِيرَاثَ رَجُلٍ مِنْ الْأَزْدِ وَلَسْتُ أَجِدُ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ قَالَ : اذْهَبْ فَالْتَمِسْ أَزْدِيًّا حَوْلًا ، قَالَ : فَأَتَاهُ بَعْدَ الْحَوْلِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَجِدْ أَزْدِيًّا أَدْفَعُهُ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَانْطَلِقْ فَانْظُرْ أَوَّلَ خُزَاعِيٍّ تَلْقَاهُ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ ، فَلَمَّا وَلَّى قَالَ : عَلَيَّ الرَّجُلُ ، فَلَمَّا جَاءَهُ قَالَ : انْظُرْ كُبْرَ خُزَاعَةَ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ " .
´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : قبیلہ ازد کے ایک آدمی کا ترکہ میرے پاس ہے اور مجھے کوئی ازدی مل نہیں رہا ہے جسے میں یہ ترکہ دے دوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک سال تک کسی ازدی کو تلاش کرتے رہو “ ۔ وہ شخص پھر ایک سال بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا : اللہ کے رسول ! مجھے کوئی ازدی نہیں ملا کہ میں اسے ترکہ دے دیتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ کسی خزاعی ہی کو تلاش کرو ، اگر مل جائے تو مال اس کو دے دو “ ، جب وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کو میرے پاس بلا کے لاؤ “ ، جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیکھو جو شخص خزاعہ میں سب سے بڑا ہو اس کو یہ مال دے دینا ۱؎ “ ۔