سنن ابي داود
كتاب الفرائض— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدِّ باب: دادا کی میراث کا بیان۔
حدیث نمبر: 2897
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ : " أَيُّكُمْ يَعْلَمُ مَا وَرَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَدَّ ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ : أَنَا وَرَّثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّدُسَ قَالَ : مَعَ مَنْ ؟ قَالَ : لَا أَدْرِي ، قَالَ : لَا دَرَيْتَ فَمَا تُغْنِي إِذًا ؟ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن بصری کہتے ہیں کہ` عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دادا کو ترکے میں سے جو دلایا ہے اسے تم میں کون جانتا ہے ؟ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ( جانتا ہوں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھٹا حصہ دلایا ہے ، انہوں نے پوچھا : کس وارث کے ساتھ ؟ وہ کہنے لگے : یہ تو معلوم نہیں ، اس پر انہوں نے کہا : تمہیں پوری بات معلوم نہیں پھر کیا فائدہ تمہارے جاننے کا ؟ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2723 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´وراثت میں دادا کے حصہ کا بیان۔`
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے خاندان کے ایک دادا کے لیے چھٹے حصہ کا فیصلہ فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2723]
معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے خاندان کے ایک دادا کے لیے چھٹے حصہ کا فیصلہ فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفرائض/حدیث: 2723]
اردو حاشہ:
فوائدو مسائل: (1)
مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور پہلی روایت کی بابت لکھتے ہیں کہ اس سے سنن ابی داؤد کی روایت (2894، 2895)
کفایت کرتی ہے جبکہ دیگر محققین نے دونوں روایتوں کو صحیح اور حسن قراردیا ہے۔
محققین کی تفصیلی بحث سے تصحیح حدیث والی بات ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 33/ 423، 424، وصحیح سنن أبي داود للألبانی، رقم: 2527)
(2)
میت کے والد كی عدم موجودگی میں والد کا چھٹا حصہ میت کے داد کو ملتا ہے اور لیکن اگر والد موجود ہو تو یہ چھٹا حصہ والد کو ملے گا اوردادے کو کچھ نہیں ملے گا۔
اس مسئلے کی مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (المغنی لابن قدامہ: 9؍65۔ 81)
فوائدو مسائل: (1)
مذکورہ دونوں روایتوں کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور پہلی روایت کی بابت لکھتے ہیں کہ اس سے سنن ابی داؤد کی روایت (2894، 2895)
کفایت کرتی ہے جبکہ دیگر محققین نے دونوں روایتوں کو صحیح اور حسن قراردیا ہے۔
محققین کی تفصیلی بحث سے تصحیح حدیث والی بات ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 33/ 423، 424، وصحیح سنن أبي داود للألبانی، رقم: 2527)
(2)
میت کے والد كی عدم موجودگی میں والد کا چھٹا حصہ میت کے داد کو ملتا ہے اور لیکن اگر والد موجود ہو تو یہ چھٹا حصہ والد کو ملے گا اوردادے کو کچھ نہیں ملے گا۔
اس مسئلے کی مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: (المغنی لابن قدامہ: 9؍65۔ 81)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2723 سے ماخوذ ہے۔