حدیث نمبر: 2895
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ أَبُو الْمُنِيبِ الْعَتَكِيِّ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جَعَلَ لِلْجَدَّةِ السُّدُسَ إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهَا أُمٌّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی کا چھٹا حصہ مقرر فرمایا ہے اگر ماں اس کے درمیان حاجب نہ ہو ( یعنی اگر میت کی ماں زندہ ہو گی تو وہ نانی کو حصے سے محروم کر دے گی ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2895
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, مشكوة المصابيح (3049)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1985) (ضعیف) » (اس کے راوی عبیداللہ کے بارے میں کلام ہے)
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : بلوغ المرام: 810

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´دادی اور نانی کی میراث کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نانی کا چھٹا حصہ مقرر فرمایا ہے اگر ماں اس کے درمیان حاجب نہ ہو (یعنی اگر میت کی ماں زندہ ہو گی تو وہ نانی کو حصے سے محروم کر دے گی)۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2895]
فوائد ومسائل:
سند ضعیف ہے اور مسئلہ یہی ہے، ماں دادی اور نانی کےلئے حاجب ہے (ان کو وراثت کے حق سے محروم کر دیتی ہے۔
)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2895 سے ماخوذ ہے۔