سنن ابي داود
كتاب الفرائض— کتاب: وراثت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الصُّلْبِ باب: صلبی (حقیقی) اولاد کی میراث کا بیان۔
حدیث نمبر: 2893
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَسَّانَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، وَرَّثَ أُخْتًا وَابْنَةً فَجَعَلَ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا النِّصْفَ ، وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَيٌّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اسود بن یزید کہتے ہیں کہ` معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بہن اور بیٹی میں اس طرح ترکہ تقسیم کیا کہ آدھا مال بیٹی کو ملا اور آدھا بہن کو ( کیونکہ بہن بیٹی کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہے ) اور وہ یمن میں تھے ، اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت باحیات تھے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´صلبی (حقیقی) اولاد کی میراث کا بیان۔`
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بہن اور بیٹی میں اس طرح ترکہ تقسیم کیا کہ آدھا مال بیٹی کو ملا اور آدھا بہن کو (کیونکہ بہن بیٹی کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہے) اور وہ یمن میں تھے، اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت باحیات تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2893]
اسود بن یزید کہتے ہیں کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بہن اور بیٹی میں اس طرح ترکہ تقسیم کیا کہ آدھا مال بیٹی کو ملا اور آدھا بہن کو (کیونکہ بہن بیٹی کے ساتھ عصبہ ہو جاتی ہے) اور وہ یمن میں تھے، اور اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت باحیات تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2893]
فوائد ومسائل:
بہنیں بیٹیوں کےساتھ مل کر عصبہ مع الغیر (ہر وہ مونث جو کسی دوسری مونث کی وجہ سے عصبہ بنے۔
اس میں صرف حقیقی بہن اور پدری بہن آتی ہے۔
جب بیٹی یا پوتی ساتھ مل کرآئے) ہو جاتی ہیں۔
بیٹی اور بہن ایک ایک ہوں۔
تو نصف نصف ملے گا۔
بیٹی کو وراثت سے نصف ملے گا۔
اور بہن کوعصبہ ہونے کی بنا پر نصف مل جائے گا۔
اور اگربیٹیاں دو یا زائد ہوں۔
تو دو تہائی کے بعد باقی بہن یا بہنوں کو ملے گا۔
بہنیں بیٹیوں کےساتھ مل کر عصبہ مع الغیر (ہر وہ مونث جو کسی دوسری مونث کی وجہ سے عصبہ بنے۔
اس میں صرف حقیقی بہن اور پدری بہن آتی ہے۔
جب بیٹی یا پوتی ساتھ مل کرآئے) ہو جاتی ہیں۔
بیٹی اور بہن ایک ایک ہوں۔
تو نصف نصف ملے گا۔
بیٹی کو وراثت سے نصف ملے گا۔
اور بہن کوعصبہ ہونے کی بنا پر نصف مل جائے گا۔
اور اگربیٹیاں دو یا زائد ہوں۔
تو دو تہائی کے بعد باقی بہن یا بہنوں کو ملے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2893 سے ماخوذ ہے۔