حدیث نمبر: 2892
حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ وَغَيْرُهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ امْرَأَةَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَعْدًا هَلَكَ وَتَرَكَ ابْنَتَيْنِ وَسَاقَ نَحْوَهُ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : وَهَذَا هُوَ أَصَحُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` سعد بن ربیع کی عورت نے کہا : اللہ کے رسول ! سعد مر گئے اور دو بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں ، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ روایت زیادہ صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2892
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الحديث السابق (2891), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 104
تخریج حدیث « انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 2365) (حسن) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´صلبی (حقیقی) اولاد کی میراث کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سعد بن ربیع کی عورت نے کہا: اللہ کے رسول! سعد مر گئے اور دو بیٹیاں چھوڑ گئے ہیں، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ روایت زیادہ صحیح ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2892]
فوائد ومسائل:
سورۃ نساء کی آیت:11۔
12 میں یہی ہے کہ (فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ) اگر لڑکیاں ہی ہوں دوسے زیادہ تو انہیں ترکہ میں سے دوتہائی ملے گا اور بیوی کے بارے میں ہے۔

(إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم) اگر تمہاری اولاد ہوں تو بیویوں کے لئے تہمارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2892 سے ماخوذ ہے۔