حدیث نمبر: 2888
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ فِي الْكَلَالَةِ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں` کلالہ کے سلسلے میں آخری آیت جو نازل ہوئی ہے وہ : «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: جو سورہ نساء کے اخیر میں ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الفرائض / حدیث: 2888
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (4605) صحيح مسلم (1618)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جس کی اولاد نہ ہو صرف بہنیں ہوں۔`
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کلالہ کے سلسلے میں آخری آیت جو نازل ہوئی ہے وہ: «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الفرائض /حدیث: 2888]
فوائد ومسائل:
حضرت ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے کہ آخری آیت جو نبی ﷺ پر ناز ل ہوئی وہ سود کےمتعلق تھی، جبکہ ا س حدیث میں کلالہ کی آیت کا ذکر ہے۔
تو ان میں کوئی تعارض نہیں، اس طرح کہ دونوں آیتیں اپنے اپنے موضوع میں آخری ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2888 سے ماخوذ ہے۔