حدیث نمبر: 2874
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ ؟ قَالَ : الشِّرْكُ بِاللَّهِ ، وَالسِّحْرُ ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ، وَأَكْلُ الرِّبَا ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَبُو الْغَيْثِ سَالِمٌ مَوْلَى ابْنِ مُطِيعٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سات تباہ و برباد کر دینے والی چیزوں ( کبیرہ گناہوں ) سے بچو “ ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! وہ کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، جادو ، ناحق کسی کو جان سے مارنا ، سود کھانا ، یتیم کا مال کھانا ، اور لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا ، اور پاک باز اور عفت والی بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوالغیث سے مراد سالم مولی ابن مطیع ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الوصايا / حدیث: 2874
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (2766) صحيح مسلم (89)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/الوصایا 23 (2766)، والطب 48 (5764)، والحدود 44 (6857)، صحیح مسلم/الإیمان 38 (89)، سنن النسائی/الوصایا 11 (3701)، (تحفة الأشراف:12915) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´یتیم کا مال کھانا سخت گناہ کا کام ہے۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات تباہ و برباد کر دینے والی چیزوں (کبیرہ گناہوں) سے بچو ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جادو، ناحق کسی کو جان سے مارنا، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا، اور لڑائی کے دن پیٹھ پھیر کر بھاگنا، اور پاک باز اور عفت والی بھولی بھالی مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوالغیث سے مراد سالم مولی ابن مطیع ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2874]
فوائد ومسائل:
آخرت میں ہلاک کر ڈالنے والے ہیں۔
انفرادی اور اجتماعی زندگی میں ان سے از حد پرہیز مذکورہ بالا امور گناہ کبیرہ کہلاتے ہیں۔
اور ان کی تعداد دیگر احادیث کی روشنی میں اس سے زیادہ ہے۔
بہر حال یہ امور انسان کو دنیا اور کرنا واجب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2874 سے ماخوذ ہے۔