سنن ابي داود
كتاب الوصايا— کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ مَتَى يَنْقَطِعُ الْيُتْمُ باب: یتیم کس عمر تک یتیم رہے گا؟
حدیث نمبر: 2873
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُقَيْشٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ شُيُوخًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، وَمِنْ خَالِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَحْمَدَ ، قَالَ : قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : حَفِظْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُتْمَ بَعْدَ احْتِلَامٍ وَلَا صُمَاتَ يَوْمٍ إِلَى اللَّيْلِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سن کر یاد رکھی ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں ( یعنی جب جوان ہو گیا تو یتیم نہیں رہا ) اور نہ دن بھر رات کے آنے تک خاموشی ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی عبادت کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ وہ خاموشی کا روزہ رکھتے اور دوران خاموشی کسی سے بات نہیں کرتے تھے، اسلام نے اس طریقہ عبادت سے منع کر دیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´یتیم کس عمر تک یتیم رہے گا؟`
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سن کر یاد رکھی ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں (یعنی جب جوان ہو گیا تو یتیم نہیں رہا) اور نہ دن بھر رات کے آنے تک خاموشی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2873]
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سن کر یاد رکھی ہے کہ احتلام کے بعد یتیمی نہیں (یعنی جب جوان ہو گیا تو یتیم نہیں رہا) اور نہ دن بھر رات کے آنے تک خاموشی ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2873]
فوائد ومسائل:
یتیم بچہ بالغ ہونے کے بعد اپنے امور کا خود ذمہ داار ہوجاتاہے۔
اور اس سے یتیمی کے احکام اٹھ جاتے ہیں۔
اگر وہ فی الواقع دانا اور سمجھ دار ہو تو خریدوفروخت اور نکاح وغیرہ کے معاملات میں اس کا اپنا فیصلہ راحج ہوگا۔
لیکن اگر ثابت نہ ہو کہ ان معاملات میں وہ دانا نہیں ہے تو ولی ہی اس کا نگران رہے گا۔
جیسے کہ سورۃ النساء میں ہے۔
(وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ)(النساء۔
6/4) اور یتیموں کو آذماتے رہو۔
پھر تم اگر ان میں ہوشیاری اور حسن تدبیر پائو تو ان کے مال ان کے حوالے کردو اور دوسرا مسئلہ چپ کا روزہ قبل ازاسلام لوگوں کامعمول تھا۔
اسلام میں اس س منع کردیا گیا ہے۔
اور اللہ کا ذکر کرنے اور خیر کے ساتھ بولنے کا حکم دیاگیاہے۔
یتیم بچہ بالغ ہونے کے بعد اپنے امور کا خود ذمہ داار ہوجاتاہے۔
اور اس سے یتیمی کے احکام اٹھ جاتے ہیں۔
اگر وہ فی الواقع دانا اور سمجھ دار ہو تو خریدوفروخت اور نکاح وغیرہ کے معاملات میں اس کا اپنا فیصلہ راحج ہوگا۔
لیکن اگر ثابت نہ ہو کہ ان معاملات میں وہ دانا نہیں ہے تو ولی ہی اس کا نگران رہے گا۔
جیسے کہ سورۃ النساء میں ہے۔
(وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ)(النساء۔
6/4) اور یتیموں کو آذماتے رہو۔
پھر تم اگر ان میں ہوشیاری اور حسن تدبیر پائو تو ان کے مال ان کے حوالے کردو اور دوسرا مسئلہ چپ کا روزہ قبل ازاسلام لوگوں کامعمول تھا۔
اسلام میں اس س منع کردیا گیا ہے۔
اور اللہ کا ذکر کرنے اور خیر کے ساتھ بولنے کا حکم دیاگیاہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2873 سے ماخوذ ہے۔