حدیث نمبر: 2866
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَأَنْ يَتَصَدَّقَ الْمَرْءُ فِي حَيَاتِهِ بِدِرْهَمٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمِائَةِ دِرْهَمٍ عِنْدَ مَوْتِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی کا اپنی زندگی میں ( جب تندرست ہو ) ایک درہم خیرات کر دینا اس سے بہتر ہے کہ مرتے وقت سو درہم خیرات کرے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الوصايا / حدیث: 2866
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, شرحبيل بن سعد اختلط وضعفه الجمهور وھو ضعيف،و قال الھيثمي : و ضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 115/4) و قال : وھو ضعيف عند الجمھور (مجمع الزوائد 159/2), وانظر الحديث الآتي : 4813, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف:4071) (ضعیف) » (اس کے راوی شرحبیل آخر عمر میں مختلط ہو گئے تھے)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´وصیت سے (ورثہ کو) نقصان پہنچانے کی کراہت کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا اپنی زندگی میں (جب تندرست ہو) ایک درہم خیرات کر دینا اس سے بہتر ہے کہ مرتے وقت سو درہم خیرات کرے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2866]
فوائد ومسائل:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
لیکن مذکورہ حدیث اس معنی کی تایئد کرتی ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2866 سے ماخوذ ہے۔