حدیث نمبر: 2860
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى مُسَدَّدٍ ، قَالَ : " وَمَنْ لَزِمَ السُّلْطَانَ افْتُتِنَ زَادَ ، وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ دُنُوًّا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسدد والی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے` اس میں ہے : ” جو شخص بادشاہ کے ساتھ چمٹا رہے گا وہ فتنے میں پڑے گا “ اور اتنا اضافہ ہے : ” جو شخص بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا اتنا ہی وہ اللہ سے دور ہوتا جائے گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الصيد / حدیث: 2860
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ’’ شيخ من الأنصار ‘‘ : لم أعرفه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 103
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15495)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/371، 440) (ضعیف) (اس کے ایک راوی شیخ من الانصار مبہم ہیں) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شکار کا پیچھا کرنا کیسا ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسدد والی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: جو شخص بادشاہ کے ساتھ چمٹا رہے گا وہ فتنے میں پڑے گا اور اتنا اضافہ ہے: جو شخص بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا اتنا ہی وہ اللہ سے دور ہوتا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2860]
فوائد ومسائل:
سندا حدیث ضعیف ہے۔
اور اس کا مفہوم اوپر کی حدیث میں گزرا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2860 سے ماخوذ ہے۔