سنن ابي داود
كتاب الصيد— کتاب: شکار کے احکام و مسائل
باب فِي اتِّبَاعِ الصَّيْدِ باب: شکار کا پیچھا کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2860
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحَكَمِ النَّخَعِيُّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى مُسَدَّدٍ ، قَالَ : " وَمَنْ لَزِمَ السُّلْطَانَ افْتُتِنَ زَادَ ، وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنَ السُّلْطَانِ دُنُوًّا إِلَّا ازْدَادَ مِنَ اللَّهِ بُعْدًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسدد والی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے` اس میں ہے : ” جو شخص بادشاہ کے ساتھ چمٹا رہے گا وہ فتنے میں پڑے گا “ اور اتنا اضافہ ہے : ” جو شخص بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا اتنا ہی وہ اللہ سے دور ہوتا جائے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´شکار کا پیچھا کرنا کیسا ہے؟`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسدد والی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: ” جو شخص بادشاہ کے ساتھ چمٹا رہے گا وہ فتنے میں پڑے گا “ اور اتنا اضافہ ہے: ” جو شخص بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا اتنا ہی وہ اللہ سے دور ہوتا جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2860]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسدد والی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے: ” جو شخص بادشاہ کے ساتھ چمٹا رہے گا وہ فتنے میں پڑے گا “ اور اتنا اضافہ ہے: ” جو شخص بادشاہ کے جتنا قریب ہوتا جائے گا اتنا ہی وہ اللہ سے دور ہوتا جائے گا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيد /حدیث: 2860]
فوائد ومسائل:
سندا حدیث ضعیف ہے۔
اور اس کا مفہوم اوپر کی حدیث میں گزرا ہے۔
سندا حدیث ضعیف ہے۔
اور اس کا مفہوم اوپر کی حدیث میں گزرا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2860 سے ماخوذ ہے۔