حدیث نمبر: 2833
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ خَمْسِينَ شَاةً شَاةٌ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : قَالَ بَعْضُهُمُ الْفَرَعُ أَوَّلُ مَا تُنْتِجُ الإِبِلُ كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ ثُمَّ يَأْكُلُونَهُ ، وَيُلْقَى جِلْدُهُ عَلَى الشَّجَرِ وَالْعَتِيرَةُ فِي الْعَشْرِ الأُوَلِ مِنْ رَجَبٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر پچاس بکری میں سے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : بعض حضرات نے «فرع» کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اونٹ کے سب سے پہلے بچہ کی پیدائش پر کفار اسے بتوں کے نام ذبح کر کے کھا لیتے ، اور اس کی کھال کو درخت پر ڈال دیتے تھے ، اور «عتیرہ» ایسے جانور کو کہتے ہیں جسے رجب کے پہلے عشرہ میں ذبح کرتے تھے ۔

وضاحت:
۱؎: یہ حکم مستحب تھا۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2833
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, أخرجه ابن ماجه (3163 وسنده حسن) ورواه الترمذي (1513 وسنده حسن)
تخریج حدیث « تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 17835)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/158، 251) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عتیرہ (یعنی ماہ رجب کی قربانی) کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر پچاس بکری میں سے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: بعض حضرات نے «فرع» کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اونٹ کے سب سے پہلے بچہ کی پیدائش پر کفار اسے بتوں کے نام ذبح کر کے کھا لیتے، اور اس کی کھال کو درخت پر ڈال دیتے تھے، اور «عتیرہ» ایسے جانور کو کہتے ہیں جسے رجب کے پہلے عشرہ میں ذبح کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2833]
فوائد ومسائل:
ابتدائے اسلام میں فرع اور عتیرہ پرعمل ہوتا تھا۔
کہ کفار غیر اللہ کے نام پرکرتے تھے۔
اور مسلمان اللہ کے نام پر مگر بعد میں جب قربانی کا حکم ہوا تو انہیں منسوخ کر دیا گیا۔
یعنی ان کا وجوب

مجموعی طور پر حدیث سے عمومی صدقہ کے طور پر ان کا استحباب باقی ہے۔
مگر خیال رہے کہ کفار اور جاہلی لوگوں سے مشابہت نہ ہو۔
وہ لوگ غیر اللہ کے نام سے ذبح کرتے ہیں۔
جو سراسر شرک ہے۔
کچھ لوگ خون بہانا لازمی سمجھتے ہیں۔
اور اسے ہی تقرب کا ذریعہ جانتے ہیں۔
تو یہ بھی کوئی ضروری نہیں۔
(نیل الأوطار، باب ماجاء في الفرع والعتیرہ ونسخھا: 157/5) مذید دیکھئے حدیث 2788 کے فوائد)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2833 سے ماخوذ ہے۔