سنن ابي داود
كتاب الضحايا— کتاب: قربانی کے مسائل
باب مَا جَاءَ فِي ذَكَاةِ الْجَنِينِ باب: جانور کے پیٹ میں موجود بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے۔
حدیث نمبر: 2828
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَاهَوَيْهِ ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَدَّاحُ الْمَكِّيُّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پیٹ کے بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے ( یعنی ماں کا ذبح کرنا پیٹ کے بچے کے ذبح کو کافی ہے ) “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جانور کے پیٹ میں موجود بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پیٹ کے بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے (یعنی ماں کا ذبح کرنا پیٹ کے بچے کے ذبح کو کافی ہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2828]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” پیٹ کے بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے (یعنی ماں کا ذبح کرنا پیٹ کے بچے کے ذبح کو کافی ہے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2828]
فوائد ومسائل:
اگربچہ زندہ نکلے تو اس کو ذبح کرنا لازم ہوگا۔
ورنہ وہ ماں کی طرح ذبیحہ کا حصہ ہے۔
اور حلال ہے۔
اور اس کا کھانا جائز ہے.
اگربچہ زندہ نکلے تو اس کو ذبح کرنا لازم ہوگا۔
ورنہ وہ ماں کی طرح ذبیحہ کا حصہ ہے۔
اور حلال ہے۔
اور اس کا کھانا جائز ہے.
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2828 سے ماخوذ ہے۔