سنن ابي داود
كتاب الضحايا— کتاب: قربانی کے مسائل
باب فِي الذَّبِيحَةِ بِالْمَرْوَةِ باب: دھار دار پتھر سے ذبح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2823
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ ، أَنَّهُ كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً بِشِعْبٍ مِنْ شِعَابِ أُحُدٍ ، فَأَخَذَهَا الْمَوْتُ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يَنْحَرُهَا بِهِ فَأَخَذَ وَتِدًا فَوَجَأَ بِهِ فِي لَبَّتِهَا حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهَا ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بنو حارثہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ` وہ احد پہاڑ کے دروں میں سے ایک درے پر اونٹنی چرا رہا تھا ، تو وہ مرنے لگی ، اسے کوئی ایسی چیز نہ ملی کہ جس سے اسے نحر کر دے ، تو ایک کھوٹی لے کر اونٹنی کے سینہ میں چبھو دی یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی ، تو آپ نے اسے اس کے کھانے کا حکم دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5502 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5502. سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت کعب بن مالک ؓ کی ایک لونڈی اس پہاڑ پر جو سوق مدنی ہے اور جس کا نام سلع ہے، بکریاں چرایا کرتی تھی ایک بکری مرنے کے قریب ہوگئی تو اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے بکری کو ذبح کر دیا۔ لوگوں نے اس امر کا نبی ﷺ سے ذکر کیا تو آپ نے انہیں اس کے کھانے کی اجازت دی۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5502]
حدیث حاشیہ:
جانور کو ذبح کرنے کے لیے تیز چھری استعمال کرنی چاہیے جیسا کہ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ ہم میں کوئی شکار کرتا ہے اور اس کے پاس ذبح کرنے کے لیے چھری نہیں ہوتی تو کیا وہ اسے پتھر یا لکڑی کی تیز پھانک سے ذبح کرے؟ آپ نے فرمایا: ’’جس چیز سے تم چاہو خون بہاؤ اور اللہ کا نام ذکر کرو۔
‘‘ (سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2824)
بوقت ضرورت اگر چھری دستیاب نہ ہو تو تیز دھاری دار پتھر یا لکڑی کی تیز پھانک سے ذبح کرنا جائز ہے مگر دانت، ہڈی اور ناخن سے ذبح کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں کفار کی مشابہت ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے تیز پتھر سے خرگوش ذبح کیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دی۔
(سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2822)
جانور کو ذبح کرنے کے لیے تیز چھری استعمال کرنی چاہیے جیسا کہ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تھا کہ ہم میں کوئی شکار کرتا ہے اور اس کے پاس ذبح کرنے کے لیے چھری نہیں ہوتی تو کیا وہ اسے پتھر یا لکڑی کی تیز پھانک سے ذبح کرے؟ آپ نے فرمایا: ’’جس چیز سے تم چاہو خون بہاؤ اور اللہ کا نام ذکر کرو۔
‘‘ (سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2824)
بوقت ضرورت اگر چھری دستیاب نہ ہو تو تیز دھاری دار پتھر یا لکڑی کی تیز پھانک سے ذبح کرنا جائز ہے مگر دانت، ہڈی اور ناخن سے ذبح کرنا جائز نہیں کیونکہ اس میں کفار کی مشابہت ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے تیز پتھر سے خرگوش ذبح کیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دی۔
(سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2822)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5502 سے ماخوذ ہے۔