سنن ابي داود
كتاب الضحايا— کتاب: قربانی کے مسائل
باب فِي الذَّبِيحَةِ بِالْمَرْوَةِ باب: دھار دار پتھر سے ذبح کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى ، أَفَنَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرِنْ أَوْ أَعْجِلْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ، فَكُلُوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا أَوْ ظُفْرًا ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ ، وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ ، وَتَقَدَّمَ بِهِ سَرْعَانٌ مِنَ النَّاسِ فَتَعَجَّلُوا فَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ النَّاسِ ، فَنَصَبُوا قُدُورًا فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ وَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ ، فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا بِهِ مِثْلَ هَذَا " .
´رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کل دشمنوں سے مقابلہ کرنے والے ہیں ، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں کیا ہم سفید ( دھار دار ) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے ( بانس کی کھپچی ) سے ذبح کریں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جلدی کر لو ۱؎ جو چیز کہ خون بہا دے اور اللہ کا نام اس پر لیا جائے تو اسے کھاؤ ہاں وہ دانت اور ناخن سے ذبح نہ ہو ، عنقریب میں تم کو اس کی وجہ بتاتا ہوں ، دانت سے تو اس لیے نہیں کہ دانت ایک ہڈی ہے ، اور ناخن سے اس لیے نہیں کہ وہ جبشیوں کی چھریاں ہیں “ ، اور کچھ جلد باز لوگ آگے بڑھ گئے ، انہوں نے جلدی کی ، اور کچھ مال غنیمت حاصل کر لیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پیچھے چل رہے تھے تو ان لوگوں نے دیگیں چڑھا دیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دیگوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے انہیں پلٹ دینے کا حکم دیا ، چنانچہ وہ پلٹ دی گئیں ، اور ان کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت ) تقسیم کیا تو ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا ، ایک اونٹ ان اونٹوں میں سے بھاگ نکلا اس وقت لوگوں کے پاس گھوڑے نہ تھے ( کہ گھوڑا دوڑا کر اسے پکڑ لیتے ) چنانچہ ایک شخص نے اسے تیر مارا تو اللہ نے اسے روک دیا ( یعنی وہ چوٹ کھا کر گر گیا اور آگے نہ بڑھ سکا ) اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان چوپایوں میں بھی بدکنے والے جانور ہوتے ہیں جیسے وحشی جانور بدکتے ہیں تو جو کوئی ان جانوروں میں سے ایسا کرے تو تم بھی اس کے ساتھ ایسا ہی کرو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمنوں سے مقابلہ کرنے والے ہیں، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں کیا ہم سفید (دھار دار) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے (بانس کی کھپچی) سے ذبح کریں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جلدی کر لو ۱؎ جو چیز کہ خون بہا دے اور اللہ کا نام اس پر لیا جائے تو اسے کھاؤ ہاں وہ دانت اور ناخن سے ذبح نہ ہو، عنقریب میں تم کو اس کی وجہ بتاتا ہوں، دانت سے تو اس لیے نہیں کہ دانت ایک ہڈی ہے، اور ناخن سے اس لیے نہیں کہ وہ جبشیوں کی چھریاں ہیں “۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2821]
1۔
بوقت ضرورت تیز دھاری دار پتھر اورلکڑی کے تیز چھلکے یا پھٹے وغیرہ سے ذبح کرنا جائز ہے، مگر دانت ہڈی۔
اور ناخن سے ذبح کرنا جائز نہیں۔
کیونکہ اس میں کفار کی مشابہت ہے۔
2۔
ذبح کرتےوقت تکبیر پڑھنا۔
اور خون نکلنا لازمی ہے۔
3۔
جو جانور وحشی بن جائے۔
اور قابو میں نہ آرہا ہو تو اسے شکار کی مانند نشانہ مار کرذبح کرنا یا زخمی کرنا حتیٰ کہ قابو میں آجائے جائز ہے۔
جب وہ زخمی ہوکر گرجائے تو اس کے گلے پرچھری پھیرکر اسے ذبح کرلیا جائے۔
4۔
امام کو حق حاصل ہے کہ حسب مصلحت مالی تعزیر لگائے۔
(جرمانہ کرنا مباح ہے)
5۔
اسلامی معاشرے میں عدل کا نفاذ ازحد ضروری ہے۔
بالخصوص جہاد میں اور کفار کے مقابلے میں اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
کیونکہ یہ عمل کفار پرنصرت اور غلبے کا ایک اہم عنصر ہے۔
6۔
اس حدیث میں ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دینا ا س موقع پر قیمت کی بنیاد پرتھا۔
اس سے یہ استدلال کرنا کہ ایک اونٹ میں دس افراد حصہ دار ہوسکتے ہیں۔
محل نظر ہے۔
لیکن قربانی کے موقع پر ایک اونٹ میں دس افراد کے شریک ہونے کا ذکر دوسری احادیث سے ثابت ہے۔
(تفصیل کےلئے دیکھئے فوائد ومسائل حدیث نمبر 2810)
«. . . عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كُلْ يَعْنِي مَا أَنْهَرَ الدَّمَ إِلَّا السِّنَّ وَالظُّفُرَ . . .»
”. . . رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کھاؤ یعنی (ایسے جانور کو جسے ایسی دھاردار چیز سے ذبح کیا گیا ہو) جو خون بہا دے۔ سوا دانت اور ناخن کے (یعنی ان سے ذبح کرنا درست نہیں ہے)۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْأَطْعِمَةِ: 5506]
باب اور حدیث میں مناسبت:
ترجمۃ الباب میں امام بخاری رحمہ اللہ نے دانت، ہڈی اور ناخن سے ذبح نہ کرنے کا ذکر فرمایا ہے، جبکہ تحت الباب حدیث میں دانت اور ناخن کا ذکر ہے مگر ہڈی کا ذکر نہیں ہے، لہٰذا باب سے حدیث کا مکمل طور پر مناسبت ہونا ثابت نہیں ہو رہا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ باب اور حدیث میں مناسبت دیتے ہوئے فرماتے ہیں: «والبخاري فى هذا ماش على عادتة فى الإشارة إلى ما يتضمنه أصل الحديث فان فيه ”أما السن فعظم“ وان كانت هذه الجملة لم تذكرهنا لكنها ثابته مشهورة فى نفس الحديث .» [فتح الباري لابن حجر: 540/90]
”یعنی امام بخاری رحمہ اللہ نے یہاں بھی اپنی عادت کے مطابق اصل حدیث کے متقضی کی طرف اشارہ فرمایا ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں کہ ”دانت ہڈی ہے“ اگرچہ یہ جملہ یہاں پر مذکور نہیں ہے لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اشارے کے ذریعے اس حدیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو نص حدیث میں ثابت اور مشہور ہے۔“
عبدالحق الہاشمی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: «ذكر البخاري فى الباب حديث رافع وفيه ذكر السن والظفر، وليس فيه ذكر العظم، لكن مشي البخاري على عادته فى الاشارة الى ما يتضمنه اصل الحديث .» [لب اللباب فی تراجم والابواب: 306/4]
علامہ کرمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: «ترجم بالعظم ولم يذكره فى الحديث، ولكن حكمه يعلم منه، لأن المذكور فى الحديث، أعني: السن والظفر أيضا من العظم .»
”امام کرمانی رحمہ اللہ کی توجیہ کے مطابق بھی دوسری حدیث میں واضح لفظ ہیں کہ: «اعنيى السن والظفر أيضاً من العظم .»
امام قسطلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کے علاوہ سابقہ روایت میں زیادتی ہے کہ «أما السن فعظم» (دانت ہڈی ہے) پس یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت ہو گی۔ [ارشاد الساري: 439/9]
اس حدیث میں اگرچہ ہڈی کا ذکر نہیں ہے لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اصل حدیث کی طرف اشارہ کیا ہے، اس میں دانت سے ذبح ناجائز ہونے کی وجہ ان الفاظ سے بیان ہوئی ہے کہ دانت ہڈی ہے۔
(صحیح البخاري، حدیث: 5503)
بہرحال ذبح کرتے وقت دانت، ہڈی اور ناخن سے بچنا چاہیے کیونکہ ان سے ذبح کرنے کی ممانعت ہے۔
واللہ أعلم
جنگ احد میں ان کو تیر لگا جس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں قیامت کے دن تمہارے اس تیر کا گواہ ہوں۔
ان کا زخم عبدالملک بن مروان کے زمانہ تک باقی رہا۔
86 سال کی عمر میں سنہ 73ھ میں وفات پائی، رضي اللہ عنه۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے پہلے مختصر طور پر حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث کا حوالہ دیا، پھر تفصیلی روایت بیان کی۔
چونکہ تقسیم غنیمت سے پہلے وہ ان کے مالک نہیں تھے، لہذا ان کا اجازت کے بغیر جانوروں کو ذبح کرنا ناجائز تھا، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گوشت کو ضائع کر دیا۔
اسی طرح چور جب چوری کا جانور ذبح کرتا ہے تو بھی کسی غیر کے مال پر ناجائز تصرف کرتا ہے، اس کا بھی کھانا منع ہے۔
اگرچہ کچھ فقہاء نے چور کے ذبح کیے ہوئے جانور کو کھانا جائز قرار دیا ہے لیکن یہ موقف محل نظر ہے۔
واللہ أعلم
امام بخاری رحمہ اللہ نے جو ترجمۃ الباب قائم فرمایا ہے اس کے دو اجزاء ہیں، پہلے جزء سے مناسبت بالکل واضح ہے،“”یشمل الخمر“”لیکن دوسرے جزء“”وسمیہ بغیر اسمہ“”سے مناسبت ظاہر نہیں ہونی چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ العسقلانی رحمہ اللہ باب اور حدیث میں مناسبت دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: “”وقد ورد فی غیر ہذا الطریق التصریح بمقتضی الترجمۃ، لکن لم یوافق شرطہ فاقتنع بما فی الروایۃ التی ساقہا من الاشارۃ۔“”
“”یقیناً بعض دیگر طرق میں تصریح کے ساتھ مقتضائے ترجمہ کے مطابق الفاظ واقع ہیں، لیکن وہ آپ کی شرط پر نہیں ہیں، اسی لیے اس روایت کی طرف اشارہ فرما دیا۔
ابن ابی عاصم نے ایک اور واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے تخریج کیا ہے کہ ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ صبح کے موقع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملنے گئے وہ آپ سے شام اور اس کی سردی کی بابت پوچھنے لگیں، انہوں نے اثنائے گفتگو بتلایا کہ اہل شام طلاء نامی شراب پیتے ہیں اس پر ام المونین رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا تھا کہ میری امت کے کچھ لوگ شراب کا کوئی اور نام دے کر اسے پیا کریں گے، اسے امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی نکالا“
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے مطابق روایت باب اور حدیث میں مناسبت یوں ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ترجمۃ الباب کے ذریعے اس مضمون کی دیگر احادیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے جسے ابن ماجہ، ابن ابی عاصم اور نسائی میں روایت کیا گیا ہے۔
ابن المنیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: “”الترجمۃ مطابقۃ للحدیث الا فی قولہ“”وسمیہ بغیر اسمہ فکأنہ قنع بالاستدلال لہ بقولہ فی الحدیث:“”من امتی“”لأن من کان من الأمۃ المحمدیۃ یبعد أن یستحل الخمر بغیر تأویل۔“”
“”ترجمۃ الباب سے حدیث کی مطابقت ظاہر ہے، سوائے،“”وسمیہ بغیر اسمہ“ کے گویا امام بخاری رحمہ اللہ حدیث کے الفاظ“”من أمتی“”کے مدنظر اس کے لیے استدلال پر قانع ہوئے، کیوں کہ امت محمدیہ کا فرد ہو کر مکن نہیں کہ بغیر تاویل کے شراب کو حلال جانے۔“
امام ابن المنیر رحمہ اللہ نے مطابقت کو ایک دوسرے طریقے سے ثابت فرمایا آپ کا مقصد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حدیث میں اپنے امتیوں کا نام لیا ہے، اب لازمی سی بات ہے کہ امتی بھی ہو اور وہ حرام کو کس طرح حلال کرے گا؟ تو لازمی ہے کہ وہ اس شراب کا نام بدل دیں گے اور دوسرا نام رکھ کر اسے حلال گردانیں گے، یعنی حدیث کے متن میں بھی ترجمۃ الباب سے مناسبت قائم ہوتی ہے بشرطیکہ غور تدبر کیا جائے۔
بدر الدین بن جماعۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “”وہو المطابق الأول الترجمۃ۔ وأما باقی الترجمۃ فترک موضع الدلالۃ منہ، وہو قولہ فی غیر ہذہ الطریقۃ:“”یسمونہا بغیر اسمہا“”أما الاکتفاء بالمذکور لدلالتہ على بقیۃ الأحادیث، أو أن تلک الزیادۃ لم تثبت على شرطہ۔“”
“”ترجمۃ الباب کے اول سے مطابقت ظاہر ہے اور جو باقی دوسرا (جزء) ہے تو اسے چھوڑ دیا اور وہ دوسرے طریق سے ثابت ہے جو اس کے علاوہ ہے“”یسمونہا بغیر اسمہا“”اسی الفاظ پر اکتفا فرمایا اور زیادتی کو نقل نہیں کیا، کیوں کہ وہ آپ کی شرط پر نہیں تھی۔“”
علامہ قسطلانی رحمہ اللہ مناسبت دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: “”ومطابقۃ الجزء الأول من الترجمۃ للحدیث ظاہرۃ وأما الجزء الثانی ففی حدیث مالک بن أبی مریم عند الامام احمد و ابن ابی شیبۃ والبخاری فی تاریخہ عن ابی مالک الاشعری مرفوعاً: لبشر بن أناس من أمتی الخمر یسمونہا بغیر اسمہا کما ہوا عادت المؤلف رحمہ اللہ فی الاشارۃ بالترجمۃ إلى حدیث لم یکن على شرطہ۔“”
“”ترجمۃ الباب کے جزء اول سے مطابقت ظاہر ہے حدیث سے اور جو دوسرا جزء ہے (اس کا ذکر) مسند احمد اور ابن ابی شیبہ اور امام بخاری رحمہ اللہ کی تاریخ میں عن ابی مالک الاشعری سے مرفوعاً ہے کہ ”لبشربن أناس من أمتی الخمر یسمونہا بغیر اسمہا“”(یعنی میری امت میں لوگ شراب کا نام دوسرا رکھ لیں گے) جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ کی عادت ہے کہ آپ ترجمۃ الباب کے ذریعے اس حدیث کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو آپ کے شرط پر نہیں ہوتی۔“”
صاحب کواکب الدراری رقمطراز ہیں کہ: “”الحدیث لیس فیہ الا ذکر الجزء الاول من الترجمۃ لا ذکر تسمیۃ الخمر بغیر اسمہا؟ قلت: لعلہ اکتفاء بما جاء مبیناً فی الروایات الأخر ولم یذکرہ اذ لیس ذالک بشرطہ أو لعلہ نظرہ إلى أن لفظ من أمتی فیہ دلیل على أنہم استحلوہا بتأویل اذ لم یکن بالتاویل لکان کفراً وخروجاً عن امتہ لأن تحریم الخمر معلوم من الدین بالضرورۃ۔“”
“”حدیث کا جزء اول سے باب کی مناسبت ہے۔ لیکن جزء ثانی“”ویسمیہ بغیر اسمہ“”سے مناسبت نہیں ہے، میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ان واضح روایت کی طرف اکتفاء فرمایا ہو، جو کہ آپ کی شرط پر نہیں ہے اور ممکن ہے کہ آپ کی نظر (مناسبت کے لیے) اس لفظ کے ساتھ ہو کہ“”من امتی“ ان الفاظ میں اس بات کی دلیل ہے کہ (امتی لوگ) شراب کو حلال کر دیں گے تاویل کے ذریعے اور اگر وہ تاویل نہیں دیں گے تو یہ کفر اور ملت سے خروج ہو گا، کیوں کہ یہ معلوم دین ہے کہ خمر حرام ہے۔“”
پس یہیں سے باب اور حدیث میں مناسبت ہے۔
روایت میں مذکور ہ لفظ ''ارن'' راء کے کسرہ اور نون کے جزم کے ساتھ ہے۔
فراجع النووي أن ارن بمعنی اعجل یعنی ذبح کرتے وقت جلدی کرو تا کہ جانور کو تکلیف نہ ہو۔
(فتح)
بے بسی اور مجبوری کی حالت میں جب ذبح کی مہلت نہ ملے اور کہیں سے بھی خون بہہ جائے تو وہ ذبح کے معنی میں ہو گا جیسا کہ شکار میں ہوتا ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ کسی نے سوال کیا: اللہ کے رسول! کیا جانور کا ذبح کرنا نرخرے یا حلق ہی سے ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر تو اس کی ران میں بھی کوئی تیر وغیرہ مارے تو کافی ہے۔
‘‘ (سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2825، و إرواء الغلیل: 168/1، رقم: 2535)
یہ روایت اگرچہ ضعیف ہے، تاہم اس کے متعلق امام ابو داود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ صورت صرف اس جانور میں ہے جو کہیں نیچے جا گرا ہو یا وحشی بن گیا ہو۔
بہرحال بے بسی کی حالت میں جانور کو کسی بھی جگہ سے ذبح کیا جا سکتا ہے۔
واللہ أعلم
(1)
ایک روایت میں ہے کہ جب اونٹ بھاگ نکلا تو لوگ اس کے پیچھے دوڑے۔
اس دوران میں ایک آدمی نے اسے تیر مارا اور اسے زخمی کر کے روک لیا۔
(2)
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان روایات کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں اس امر کی صراحت ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے تیز پتھر یا بانس کی پھانک سے ذبح کرنے کی اجازت طلب کی۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو چیز بھی رگوں کو کھول دے اس کے ساتھ ذبح کر سکتے ہو، البتہ دانت اور ناخن سے ذبح نہیں کرنا چاہیے۔
‘‘ (المعجم الأوسط للطبراني: 238/5، و رقم: 7190، و فتح الباري: 781/9) (3)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان کے ذبیحے سے منع فرمایا ہے۔
(سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2826)
شیطان کے ذبیحے سے مراد ایسا جانور ہے جس کا ذبح کے وقت ذرا سا حلق کاٹ دیا جائے اور پوری رگیں نہ کاٹی جائیں اور وہ تڑپ تڑپ کر مر جائے۔
جاہلیت کے زمانے میں مشرک لوگ ایسا ہی کرتے تھے۔
چونکہ شیطان نے انہیں ایسے کام پر آمادہ کیا تھا، اس لیے اسے شیطان کا ذبیحہ کہا جاتا ہے۔
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب تم ذبح کرو تو عمدہ طریقے سے ذبح کرو، وہ اس طرح کہ چھری کو تیز کر لو اور اپنے ذبیحے کو آرام پہنچاؤ۔
‘‘ (صحیح مسلم، الصید والذبائح، حدیث: 5055 (1955)
خطابی نے کہا کہ لفظ ارن اصل میں اءرن تھا جو ارن یا رن سے ہے اور جس کے معنی بھی اعجل یعنی جلدی کرنے کے ہیں۔
اس حدیث سے بعض حضرات نے یہ مسئلہ کشید کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر قرار دیا ہے۔
یہ تقسیم کے اعتبار سے ہے، قربانی کے اعتبار سے نہیں، کیونکہ اونٹ میں دس آدمیوں کی نہیں بلکہ سات آدمیوں کی شراکت ہو سکتی ہے۔
لیکن یہ موقف صحیح نہیں کیونکہ بلاشبہ ہدی کے اونٹ میں سات آدمی ہی شریک ہو سکتے ہیں جبکہ قربانی کے اونٹ میں دس افراد شریک ہو سکتے ہیں جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں تھے تو قربانی کا وقت آ گیا، ہم اونٹ میں دس آدمی شریک ہوئے اور گائے میں سات۔
(سنن ابن ماجة، الأضاحي، حدیث: 3131)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ گائے کی قربانی سات آدمیوں کی طرف سے کی جا سکتی ہے اور اونٹ بھی سات افراد کی طرف سے قربان کیا جا سکتا ہے۔
" (سنن أبي داود، الضحایا، حدیث: 2808)
ان روایات میں تطبیق یہ ہے کہ اونٹ میں دس آدمی بھی شریک ہو سکتے ہیں اور سات بھی۔
واللہ أعلم
حنفیہ نے اس ناخون اور دانت سے ذبح جائز رکھا ہے جو آدمی کے بدن سے جدا ہو مگر یہ صحیح نہیں ہے۔
(1)
حدیث میں ذوالحلیفہ سے مراد وہ مقام نہیں جو مدینہ طیبہ کے پاس ہے اور بئر علی کے نام سے مشہور ہے بلکہ یہ تہامہ کی زمین میں مکے اور طائف کے درمیان کی اور جگہ ہے۔
اس مقام پر جو اونٹ اور بکریاں بطور غنیمت ملے، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے بھوک کی وجہ سے تقسیم سے پہلے انہیں ذبح کر کے ان کی ہانڈیاں چڑھا دیں تھیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہانڈیوں کو الٹ دینے کا حکم دیا۔
(2)
اس حدیث میں ہے کہ جب جانور پر اللہ کا نام لیا جائے اور کسی بھی تیز دھار آلے سے اس کا خون بہا دیا جائے تو اس کا کھانا جائز ہے۔
(3)
امام بخاری رحمہ اللہ نے ان الفاظ سے اپنا عنوان ثابت کیا ہے کہ ذبح کے وقت بسم اللہ پڑھنا ضروری ہے اور اگر بھول کر بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو جانور حلال ہے۔
(4)
اس حدیث کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت اور ناخن سے ذبح کرنے کی ممانعت فرمائی ہے۔
دانت سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ یہ ایک ہڈی ہے، اس سے اگر ذبح کیا جائے تو جانور پوری طرح ذبح نہیں ہوتا، اسی طرح ناخن سے ذبح کرنے میں بھی جانور کو تکلیف ہوتی ہے اور اس سے جانور پوری طرح ذبح نہیں ہوتا۔
واضح رہے کہ اس عنوان سے امام بخاری رحمہ اللہ نے ذبح کے احکام بیان کرنا شروع کیے ہیں۔
واللہ أعلم
(1)
آوابد: آبدة کی جمع ہے، بھگوڑے، بدکنے والے۔
(2)
مدية ج مدي: چھری۔
(3)
ارنی: اس لفظ اور اس کے معنی میں اختلاف ہے، جس کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔
(ا)
یہ لفظ اران ارانة سے اقم يا اطع کے وزن پر امر کا صیغہ ارن ہے، کہتے ہیں اران القوم، لوگوں كے مویشی ہلاک ہوگئے، اس طرح یہ فعل لازم ہے، لیکن یہاں متعدی کا معنی ہیکہ ذبح کرکے اسے ہلاک کرو۔
(ب)
یہ اعط كے وزن، ارن ہے جس کا معنی ہوتا ہے، کسی چیز کو مسلسل دیکھنا، یعنی تسلسل کے ساتھ بغیر سستی کے ذبح کر۔
(ج)
یہ لفظ اريٰ يري اراءة سے ارني ہے، یعنی جس سے تم ذبح کرنا چاہتے ہو، مجھے دکھاؤ، تاکہ میں تمھیں بتا سکوں۔
(د)
یہ لفظ ارني ہےاور تخفیف کے لیےراکوساکن کرکے ارني بنا دیا گیا ہے۔
(ط)
یہ لفظ ارن يارن سے اأرن بروزن اعلم ہے، نشاط میں آنا، ہلکا ہونا یعنی چستی سے جلدی کر کے ذبح کر ڈالو، کہیں اس کا گلا نہ گھونٹ ڈالو، لیکن اس صورت میں دوسرا ہمزہ یا ہونا چاہیے یعنی ايران ہوگا۔
فوائد ومسائل: تیز دھار آلہ سے ذبح کرنے سے اصل مقصود یہ ہے، جانور سے خون نکالنا مطلوب ہے، جو حرام ہے، دانت، ناخن اور ہر قسم کی ہڈی سے ذبح کرنا، اس لیے منع کیا گیا ہے، کیونکہ ان سے جانور صحیح طریقہ سے ذبح نہیں ہوتا، جبکہ اس کا گلا گھٹتا ہے، جو اس کے لیے تکلیف کا باعث ہے، لیکن جو جانور بھاگ کھڑا ہو اور اس کو ذبح یا نحر کرنا ممکن نہ ہو، یہ اضطراری طور پر اس کے جسم کے کسی حصہ کو بھی کاٹ کر خون نکالا جا سکتا ہے، لیکن اگر اس کو پکڑ کر ذبح یا نحر کیا جا سکتا ہو، یا کنویں میں گر گیا ہو اور اسے نکال کر ذبح کیا جا سکتا ہو، تو پھر اضطراری زکاۃ کافی نہیں ہو گی۔
جمہور علماء کا یہی موقف ہے، لیکن امام مالک، ربیعہ اور لیث کے نزدیک اضطراری زکاۃ صرف جنگلی حیوانات کے لیے ہے، مانوس حیوانات کے لیے یہ کسی صورت میں کافی نہیں ہے۔
رافع بن خدیج رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! کل ہم دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس (جانور ذبح کرنے کے لیے) چھری نہیں ہے (تو کیا حکم ہے؟)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو خون بہا دے ۱؎ اور اس پر اللہ کا نام یعنی بسم اللہ پڑھا گیا ہو تو اسے کھاؤ، بجز دانت اور ناخن سے ذبح کیے گئے جانور کے، اور میں تم سے دانت اور ناخن کی ۲؎ تفسیر بیان کرتا ہوں: دانت، ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے ۳؎۔ محمد بن بشار کی سند سے یہ بیان کیا، سفیان ثوری کہتے ہیں عبایہ بن رفاعہ سے، اور عبایہ نے رافع ب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الصيد والذبائح/حدیث: 1491]
وضاحت:
1؎:
اس میں تلوار، چھری، تیز پتھر، لکڑی، شیشہ، سرکنڈا، بانس اور تانبے یا لوہے کی بنی ہوئی چیزیں شامل ہیں۔
2؎:
اس جملہ کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ اللہ کے رسول کا قول ہے یاراوی حدیث رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا ہے۔
3؎:
ناخن کے ساتھ ذبح کرنے میں کفار کے ساتھ مشابہت ہے، نیز یہ ذبح کی صفت میں نہیں آتا، دانت وناخن خواہ انسان کا ہو یا کسی اور جانور کا الگ اور جدا ہو یا جسم کے ساتھ لگا ہو، ان سے ذبح کرنا جائز نہیں۔
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم کل دشمنوں سے ملیں گے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں، تو آپ نے فرمایا: ” جس چیز سے (جانور کا) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو) تو اسے کھاؤ، جب تک کہ وہ آلہ دانت یا ناخن نہ ہو، اور جلد ہی تمہیں اس سلسلے میں بتاؤں گا، رہا دانت تو وہ ہڈی ہے اور رہا ناخن تو وہ حبشہ والوں کی چھری ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4409]
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس چیز سے (جانور کا) خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ، سوائے اس کے جو دانت اور ناخن سے ذبح کیا گیا ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4408]
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم لوگ غزوات میں ہوتے ہیں اور ہمارے پاس چھری نہیں ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو خون بہا دے اور جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ بجز دانت اور ناخن سے ذبح کیے گئے جانور کے، کیونکہ دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الذبائح/حدیث: 3178]
فوائد و مسائل:
(1)
لوہے کی چھری کے علاوہ نیزے، تلوار اور شیشے کے ٹکڑے وغیرہ سے ذبح کرنا بھی جائز ہے۔
(2)
اگر ہڈی کا ٹکڑا ٹوٹ کر تیز دھار کی طرح بن گیا ہواور اس سے ذبح کرنا ممکن ہو، تب بھی اس سے ذبح نہیں کرنا چاہیے۔
(3)
کسی چھوٹے جانور یا پرندے کو دانت سے کاٹ کر ذبح کرلیا جائے تو یہ ذبح نہیں ہوگا کیونکہ یہ ممنوع ہے۔
(4)
اسی طرح ناخن سے خون نکال کر جانور کو بے جان کرنا جائز نہیں۔
(5)
حبشیوں سے مراد غیر مسلم حبشی ہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ مبارک میں ان لوگوں کی غالب اکثریت غیر مسلموں پر مشتمل تھی۔
(6)
غیر مسلموں کے رسم ورواج اور طور طریقوں سے زیادہ سے زیادہ پرہیز کرنا ضروری ہے کیونکہ نبی ﷺ نے ناخن سے ذبح کرنے کی ممانعت کا سبب بیان کیا ہے کہ یہ غیر مسلم حبشیوں کا طریقہ ہے۔
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ ’’ جو چیز خون کو بہا دے اور اسے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا گیا ہو تو اس جانور کو کھا لو۔ ذبح کرنے کا آلہ دانت اور ناخن نہیں کیونکہ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ “ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 1155»
«أخرجه البخاري، الذبائح، باب الستمية علي الذبيحة...، حديث:5498، ومسلم، الأضاحي، باب جواز الذبح بكل ما أنهر الدم إلا السن وسائر العظام، حديث:1968.»
تشریح: 1. یہ حدیث مطلقاً دانت اور ناخن سے جانور کو مارنے کی ممانعت پر دلالت کرتی ہے۔
خواہ وہ دانت اور ناخن انسان کا ہو یا کسی جانور کا‘ الگ ہو یا جسم کے ساتھ لگا ہوا ہو، اگرچہ تیز دھار ہی ہو۔
(سبل السلام) 2.حبشیوں سے مراد غیر مسلم حبشی ہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں ان لوگوں کی اکثریت غیرمسلموں پر مشتمل تھی۔
غیر مسلموں کے رسم و رواج اور طور طریقوں سے زیادہ سے زیادہ پرہیز کرنا ضروری ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ناخن سے ذبح کرنے کی ممانعت کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ یہ غیر مسلم حبشیوں کا طریقہ ہے۔