سنن ابي داود
كتاب الضحايا— کتاب: قربانی کے مسائل
باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ مُعَاقَرَةِ الأَعْرَابِ باب: جن جانوروں کو اعرابی بطور فخر و مباہات ذبح کریں ان کے کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2820
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ مُعَاقَرَةِ الأَعْرَابِ ، قَالَ أَبُو دَاوُد : اسْمُ أَبِي رَيْحَانَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَطَرٍ ، وَغُنْدَرٌ أَوْقَفَهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کے کھانے سے منع فرمایا ہے جنہیں اعرابی تفاخر کے طور پر کاٹتے ہیں ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوریحانہ کا نام عبداللہ بن مطر تھا ، اور راوی غندر نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف کر دیا ہے ۔
وضاحت:
۱؎: چونکہ ان جانوروں سے اللہ کی خوشنودی مقصود نہیں ہوتی تھی اسی لئے انہیں «ما أهل لغير الله به» کے مشابہ ٹھہرایا گیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جن جانوروں کو اعرابی بطور فخر و مباہات ذبح کریں ان کے کھانے کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کے کھانے سے منع فرمایا ہے جنہیں اعرابی تفاخر کے طور پر کاٹتے ہیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوریحانہ کا نام عبداللہ بن مطر تھا، اور راوی غندر نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف کر دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2820]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کے کھانے سے منع فرمایا ہے جنہیں اعرابی تفاخر کے طور پر کاٹتے ہیں ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوریحانہ کا نام عبداللہ بن مطر تھا، اور راوی غندر نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف کر دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2820]
فوائد ومسائل:
بعض عربوں میں یہ رواج تھا کہ ایک دوسرے کے مقابلے میں آکر اونٹوں کو ذبح کرنا شروع کر دیتے تھے۔
اور ان کا یہ مقابلہ ہوتا رہتا حتیٰ کہ آخر میں ایک عاجز آجاتا اور ا س کے مقابلے میں ان کی اپنی بڑائی غنا اور بڑے دل والا ہونے کا اظہار ہوتا تھا۔
حالانکہ واقعتاً جانور ذبح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔
تو ایسے جانوروں کے گوشت سے منع فرمایا گیا ہے۔
اگرچہ تکبیر پڑھ کر ہی ذبح کئے گئے ہوں۔
کیونکہ اس میں اسراف وتبذیر اور بے مقصد مال ضائع کرنا ہے۔
کچھ علماء نے اس کیفیت کو غیرا للہ کے نام پر ذبح کرنے کے معنی میں بھی لیا ہے۔
کیونکہ یہ اتباع ہویٰ (خواہش نفس) کی وجہ سے ذبح کیے جاتے تھے۔
نہ کے اللہ کے لئے اور نہ اس کے بتائے ہوئے مشروع مقاصد کےلئے۔
اس روایت کی صحت مختلف فیہ ہے۔
لیکن اس میں جس چیز سے منع کیا گیا ہے، وہ دوسرے دلائل کی روح سے ممنوع ہی ہے۔
بعض عربوں میں یہ رواج تھا کہ ایک دوسرے کے مقابلے میں آکر اونٹوں کو ذبح کرنا شروع کر دیتے تھے۔
اور ان کا یہ مقابلہ ہوتا رہتا حتیٰ کہ آخر میں ایک عاجز آجاتا اور ا س کے مقابلے میں ان کی اپنی بڑائی غنا اور بڑے دل والا ہونے کا اظہار ہوتا تھا۔
حالانکہ واقعتاً جانور ذبح کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔
تو ایسے جانوروں کے گوشت سے منع فرمایا گیا ہے۔
اگرچہ تکبیر پڑھ کر ہی ذبح کئے گئے ہوں۔
کیونکہ اس میں اسراف وتبذیر اور بے مقصد مال ضائع کرنا ہے۔
کچھ علماء نے اس کیفیت کو غیرا للہ کے نام پر ذبح کرنے کے معنی میں بھی لیا ہے۔
کیونکہ یہ اتباع ہویٰ (خواہش نفس) کی وجہ سے ذبح کیے جاتے تھے۔
نہ کے اللہ کے لئے اور نہ اس کے بتائے ہوئے مشروع مقاصد کےلئے۔
اس روایت کی صحت مختلف فیہ ہے۔
لیکن اس میں جس چیز سے منع کیا گیا ہے، وہ دوسرے دلائل کی روح سے ممنوع ہی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2820 سے ماخوذ ہے۔