حدیث نمبر: 2818
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ سورة الأنعام آية 121 يَقُولُونَ مَا ذَبَحَ اللَّهُ فَلَا تَأْكُلُوا وَمَا ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ فَكُلُوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` اللہ عزوجل نے جو یہ فرمایا ہے : «وإن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم» ” اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں “ ( سورۃ المائدہ : ۱۲۱ ) تو اس کا شان نزول یہ ہے کہ لوگ کہتے تھے : جسے اللہ نے ذبح کیا ( یعنی اپنی موت مر گیا ) اس کو نہ کھاؤ ، اور جسے تم نے ذبح کیا اس کو کھاؤ ، تب اللہ نے یہ آیت اتاری «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» ” ان جانوروں کو نہ کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا “ ( سورۃ الانعام : ۱۲۱ ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2818
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ابن ماجه (3173), سماك عن عكرمة سلسلة ضعيفة, وللحديث شاھد ضعيف في المعجم الكبير للطبراني (11614), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 101
تخریج حدیث « سنن النسائی/الضحایا 40 (4448)، سنن ابن ماجہ/الذبائح 4 (3173)، (تحفة الأشراف: 6111) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´اہل کتاب کے ذبیحوں کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے جو یہ فرمایا ہے: «وإن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم» اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں (سورۃ المائدہ: ۱۲۱) تو اس کا شان نزول یہ ہے کہ لوگ کہتے تھے: جسے اللہ نے ذبح کیا (یعنی اپنی موت مر گیا) اس کو نہ کھاؤ، اور جسے تم نے ذبح کیا اس کو کھاؤ، تب اللہ نے یہ آیت اتاری «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» ان جانوروں کو نہ کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا (سورۃ الانعام: ۱۲۱)۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2818]
فوائد ومسائل:
سورۃ مائدہ کی آیت نمبر5 میں اہل کتاب کے ذبیحہ کی رخصت دی گی ہے، جیسے کہ اوپر ذکر ہوا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2818 سے ماخوذ ہے۔