سنن ابي داود
كتاب الضحايا— کتاب: قربانی کے مسائل
باب فِي حَبْسِ لُحُومِ الأَضَاحِي باب: قربانی کے گوشت کو رکھ چھوڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2813
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ نُبَيْشَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ لِكَيْ تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا ، أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے منع کیا تھا کہ وہ تم سب کو پہنچ جائے ، اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور بچا ( بھی ) رکھو اور ( صدقہ دے کر ) ثواب ( بھی ) کماؤ ، سن لو ! یہ دن کھانے ، پینے اور اللہ عزوجل کی یاد ( شکر گزاری ) کے ہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´قربانی کے گوشت کو رکھ چھوڑنے کا بیان۔`
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے منع کیا تھا کہ وہ تم سب کو پہنچ جائے، اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور بچا (بھی) رکھو اور (صدقہ دے کر) ثواب (بھی) کماؤ، سن لو! یہ دن کھانے، پینے اور اللہ عزوجل کی یاد (شکر گزاری) کے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2813]
نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے منع کیا تھا کہ وہ تم سب کو پہنچ جائے، اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور بچا (بھی) رکھو اور (صدقہ دے کر) ثواب (بھی) کماؤ، سن لو! یہ دن کھانے، پینے اور اللہ عزوجل کی یاد (شکر گزاری) کے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2813]
فوائد ومسائل:
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جہاں فقراء مساکین کی کثرت ہو وہاں قربانی کا گوشت ان میں تقسیم کرنے کی بجائے ذخیرہ کرلینا صحیح نہیں ہے۔
البتہ جہاں معاملہ اس کے برعکس ہو تو وہاں اس کی کچھ گنجائش ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جہاں فقراء مساکین کی کثرت ہو وہاں قربانی کا گوشت ان میں تقسیم کرنے کی بجائے ذخیرہ کرلینا صحیح نہیں ہے۔
البتہ جہاں معاملہ اس کے برعکس ہو تو وہاں اس کی کچھ گنجائش ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2813 سے ماخوذ ہے۔