حدیث نمبر: 2811
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَنَّ أَبَا أُسَامَةَ حدَّثَهُمْ عَنْ أُسَامَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَهُ بِالْمُصَلَّى وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قربانی عید گاہ میں ذبح کرتے تھے ۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2811
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح خ دون الموقوف , شیخ زبیر علی زئی: صحيح, أخرجه ابن ماجه (3161 وسنده حسن) وأصله عند البخاري (982)
تخریج حدیث « سنن ابن ماجہ/الأضاحي 17 (3161)، (تحفة الأشراف: 7473)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/العیدین 22 (982)، والأضاحي 6 (5552)، سنن الترمذی/الضحایا 9 (1508)، سنن النسائی/العیدین 29 (1590)، والأضاحي 2 (4371)، مسند احمد (2/108، 152) (حسن صحیح) » (ابن عمر رضی اللہ عنہما کے فعل کے متعلق جملہ صحیح نہیں ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´امام کا اپنی قربانی کو عیدگاہ میں ذبح کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قربانی عید گاہ میں ذبح کرتے تھے۔ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2811]
فوائد ومسائل:
مستحب یہی ہے کہ امام بالخصوص عید گاہ میں قربانی کرے۔
تاکہ دوسرے لوگوں کو ترغیب ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2811 سے ماخوذ ہے۔