حدیث نمبر: 2810
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الإِسْكَنْدَرَانِيَّ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَضْحَى بِالْمُصَلَّى ، فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ نَزَلَ مِنْ مِنْبَرِهِ وَأُتِيَ بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ، وَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں عید الاضحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید گاہ میں موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے چکے تو منبر سے اترے اور آپ کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «بسم الله والله أكبر هذا عني وعمن لم يضح من أمتي» ” اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے، یہ میری طرف سے اور میری امت کے ہر اس شخص کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی ہے ۱؎ “ کہہ کر اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔

وضاحت:
۱؎: ا س جملے سے ثابت ہوا کہ مسلم کی جس روایت میں اجمال ہے (یعنی: یہ میری امت کی طرف سے ہے) اس سے مراد امت کے وہ زندہ لوگ ہیں جو عدم استطاعت کے سبب اس سال قربانی نہیں کر سکے تھے نہ کہ مردہ لوگ۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الضحايا / حدیث: 2810
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (1521), المطلب بن عبداللّٰه بن حنطب مدلس وصرح بالسماع عند الطحاوي(معاني الآثار 177/4178) في أصل الحديث ولكنه لم يصرح بالسماع في قوله :’’نزل من منبره ‘‘ فھذا ضعيف, ولأصل الحديث شواھد عند الحاكم (229/4) وغيره دون قوله:’’نزل من منبره‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 101
تخریج حدیث « سنن الترمذی/الأضاحي 22 (1521)، سنن ابن ماجہ/الأضاحي 1 (3121)، (تحفة الأشراف: 3099)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/الأضاحي 1 (1989)، مسند احمد (3/356، 362) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´ایک بکری کی قربانی کئی آدمیوں کی طرف سے کافی ہے۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں عید الاضحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید گاہ میں موجود تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے چکے تو منبر سے اترے اور آپ کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے: «بسم الله والله أكبر هذا عني وعمن لم يضح من أمتي» " اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے، یہ میری طرف سے اور میری امت کے ہر اس شخص کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی ہے ۱؎ " کہہ کر اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2810]
فوائد ومسائل:

ایک بکری کا اپنے تمام گھر کے افراد کی طرف سے کفایت کرنا تو بالکل صحیح بات ہے۔
مگر لوگوں کی ایک جماعت کی طرف سے ایک بکری ذبح کرنا صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت ہے۔


عید گاہ میں بعض اوقات منبر استعمال کرلیا جائے۔
تو جائز ہے۔
جیسے کہ اس حدیث میں بیان ہے۔
علاوہ ازیں صحیح بخاری۔
اورصحیح مسلم میں بھی اس بات کا تزکرہ موجود ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبے سے فارغ ہوئے تو نیچے اترے اور عورتوں کی طرف تشریف لے گئے۔
(صحیح البخاري، العیدین، حدیث: 961۔
و صحیح مسلم، العیدین، حدیث: 884)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2810 سے ماخوذ ہے۔