سنن ابي داود
كتاب الضحايا— کتاب: قربانی کے مسائل
باب مَا يَجُوزُ مِنَ السِّنِّ فِي الضَّحَايَا باب: کس عمر کے جانور کی قربانی جائز ہے؟
حدیث نمبر: 2798
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صُدْرَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طُعْمَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ ضَحَايَا فَأَعْطَانِي عَتُودًا جَذَعًا ، : فَرَجَعْتُ بِهِ إِلَيْهِ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّهُ جَذَعٌ ، قَالَ : ضَحِّ بِهِ ، فَضَحَّيْتُ بِهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام میں قربانی کے جانور تقسیم کئے تو مجھ کو ایک بکری کا بچہ جو جذع تھا (یعنی دوسرے سال میں داخل ہو چکا تھا) دیا، میں اس کو لوٹا کر آپ کے پاس لایا اور میں نے کہا کہ یہ جذع ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس کی قربانی کر ڈالو “، تو میں نے اسی کی قربانی کر ڈالی۔