سنن ابي داود
كتاب الضحايا— کتاب: قربانی کے مسائل
باب مَا جَاءَ فِي إِيجَابِ الأَضَاحِي باب: قربانی کے وجوب کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عَيَّاشُ بْنُ عَبَّاسٍ الْقِتْبَانِيُّ ، عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ ، قَالَ الرَّجُلُ : أَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا أُضْحِيَّةً أُنْثَى ، أَفَأُضَحِّي بِهَا قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِكَ وَأَظْفَارِكَ وَتَقُصُّ شَارِبَكَ ، وَتَحْلِقُ عَانَتَكَ ، فَتِلْكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ " .
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اضحی کے دن ( دسویں ذی الحجہ کو ) مجھے عید منانے کا حکم دیا گیا ہے جسے اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے مقرر و متعین فرمایا ہے “ ، ایک شخص کہنے لگا : بتائیے اگر میں بجز مادہ اونٹنی یا بکری کے کوئی اور چیز نہ پاؤں تو کیا اسی کی قربانی کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، تم اپنے بال کتر لو ، ناخن تراش لو ، مونچھ کتر لو ، اور زیر ناف کے بال لے لو ، اللہ عزوجل کے نزدیک ( ثواب میں ) بس یہی تمہاری پوری قربانی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اضحی کے دن (دسویں ذی الحجہ کو) مجھے عید منانے کا حکم دیا گیا ہے جسے اللہ عزوجل نے اس امت کے لیے مقرر و متعین فرمایا ہے “، ایک شخص کہنے لگا: بتائیے اگر میں بجز مادہ اونٹنی یا بکری کے کوئی اور چیز نہ پاؤں تو کیا اسی کی قربانی کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” نہیں، تم اپنے بال کتر لو، ناخن تراش لو، مونچھ کتر لو، اور زیر ناف کے بال لے لو، اللہ عزوجل کے نزدیک (ثواب میں) بس یہی تمہاری پوری قربانی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الضحايا /حدیث: 2789]
فی الواقع جس کسی کے پاس وسعت نہ ہو کہ وہ قربانی کرسکے۔
تو نہ صرف یہ کہ اسے قربانی معاف ہے۔
بلکہ اگر وہ عید الاضحیٰ کے دن نماز عید کے بعد مذکورہ کام کرلے گا تو اللہ تعالیٰ اسے اس پر ہی قربانی کا اجر عطا فرما دے گا۔
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے، اگر مجھے صرف مادہ قربانی (دودھ دینے والا جانور) ملے تو کیا میں اس کی قربانی کر دوں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، لیکن تم ناخن اور بال کاٹ لو، مونچھیں تراشو اور شرمگاہ کے بال مونڈ لو تو اللہ کے ہاں تمھاری یہ پوری قربانی ہے۔
(سنن ابی داود: 2789 وسندہ حسن، وصححہ ابن حبان، الموارد: 1043، والحاکم 4/ 223 والذہبی)
اس حدیث کے راوی عیسیٰ بن ہلال الصدفی صدوق ہیں۔ دیکھئے تقریب التہذیب (5337)
انھیں یعقوب بن سفیان الفارسی (المعرفۃ و التاریخ 2/ 515، 487) اور ابن حبان وغیرہما نے ثقہ قرار دیا ہے۔
ایسے راوی کی روایت حسن کے درجے سے کبھی نہیں گرتی۔
عیاش بن عباس القتبانی ثقہ تھے۔ دیکھئے التقریب (5269) باقی سند صحیح ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص قربانی کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ اگر ذوالحجہ کے چاند سے لے کر نمازِ عید سے فارغ ہونے تک بال نہ کٹوائے اور ناخن نہ تراشے تو اسے قربانی کا ثواب ملتا ہے۔
……… اصل مضمون ………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے تحقیقی و علمی مقالات (جلد 2 صفحہ 212 اور 213) للشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی ﷺ سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے، اگر مجھے صرف مادہ قربانی (دودھ دینے والا جانور) ملے تو کیا میں اس کی قربانی کر دوں؟
آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، لیکن تم ناخن اور بال کاٹ لو، مونچھیں تراشو اور شرمگاہ کے بال مونڈ لو تو اللہ کے ہاں تمھاری یہ پوری قربانی ہے۔
[سنن ابي داود: 2789 وسنده حسن، وصححه ابن حبان، الموارد: 1043، والحاكم 4/ 223 والذهبي]
اس حدیث کے راوی عیسیٰ بن ہلال الصدفی صدوق ہیں۔ دیکھئے [تقريب التهذيب 5337]
انھیں یعقوب بن سفیان الفارسی (المعرفۃ و التاریخ 2/ 515، 487) اور ابن حبان وغیرہما نے ثقہ قرار دیا ہے۔
ایسے راوی کی روایت حسن کے درجے سے کبھی نہیں گرتی۔
عیاش بن عباس القتبانی ثقہ تھے۔ دیکھئے التقریب (5269) باقی سند صحیح ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو شخص قربانی کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو، وہ اگر ذوالحجہ کے چاند سے لے کر نمازِ عید سے فارغ ہونے تک بال نہ کٹوائے اور ناخن نہ تراشے تو اسے قربانی کا ثواب ملتا ہے۔
……… اصل مضمون ………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے تحقیقی و علمی مقالات (جلد 2 صفحہ 212 اور 213) للشیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ” مجھے قربانی کے دن (دسویں ذی الحجہ) کو عید منانے کا حکم ہوا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دن کو اس امت کے لیے عید کا دن بنایا ہے “، وہ شخص بولا: اگر میرے پاس سوائے ایک دو دھاری بکری کے کچھ نہ ہو تو آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا میں اس کی قربانی کروں؟ آپ نے فرمایا: ” نہیں، بلکہ تم (قربانی کے دن) ۱؎ اپنے بال، ناخن کاٹو، اپنی مونچھ تراشو اور ناف کے نیچے کے بال ک [سنن نسائي/كتاب الضحايا/حدیث: 4370]
(2)عید کے دن بننا سنورنا اور صفائی ستھرائی کا اہتمام کرنا مستحب ہے چونکہ یہ لوگوں کے اجتماع کا دن ہے، اس لیے اس دن کی خاطر خاص طور پر نہانا دھونا، اچھا لباس پہننا، خوشبو لگانا اور شریعت کے بتلائے ہوئے دیگر امور بجا لانا مطلوب اور شریعت مطہرہ کی نظر میں پسندیدہ عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قربانی نہ کر سکنے کے باوجود مذکورہ امور کو کما حقہ بجا لانا، اجر و ثواب میں مکمل قربانی کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔
(3) یہ حدیث مبارکہ قربانی کرنے کی خصوصی اہمیت بھی اجاگر کرتی ہے کیونکہ قربانی کرنے کا اس قدر بنانا مستحب قرار دیا گیا ہے تاکہ قربانی کرنے والے لوگوں کے ساتھ بدنی مشابہت ہو جائے۔
(4) معلوم ہوا قربانی کی طاقت نہ رکھنے والے شخص کو قربانی معاف ہے۔ ﴿لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا﴾