حدیث نمبر: 2785
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ يَقُولُ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمَانَ ،أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ ، قَالَ : لَمَّا فَتَحْنَا خَيْبَرَ أَخْرَجُوا غَنَائِمَهُمْ مِنَ الْمَتَاعِ وَالسَّبْيِ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَبَايَعُونَ غَنَائِمَهُمْ ، فَجَاءَ رَجُلٌ حِينَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ رَبِحْتُ رِبْحًا مَا رَبِحَ الْيَوْمَ مِثْلَهُ أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْوَادِي قَالَ : وَيْحَكَ وَمَا رَبِحْتَ ؟ قَالَ : مَا زِلْتُ أَبِيعُ وَأَبْتَاعُ حَتَّى رَبِحْتُ ثَلَاثَ مِائَةِ أُوقِيَّةٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَا أُنَبِّئُكَ بِخَيْرِ رَجُلٍ رَبِحَ ، قَالَ : مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبیداللہ بن سلمان نے بیان کیا ہے کہ` ایک صحابی نے ان سے کہا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو لوگوں نے اپنے اپنے غنیمت کے سامان اور قیدی نکالے اور ان کی خرید و فروخت کرنے لگے ، اتنے میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس وقت آپ نماز سے فارغ ہوئے آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! آج میں نے اس وادی میں جتنا نفع کمایا ہے اتنا کسی نے نہ کمایا ہو گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تباہی ہو تیرے لیے ، کیا نفع کمایا تو نے ؟ “ بولا : میں برابر بیچتا اور خریدتا رہا ، یہاں تک کہ میں نے تین سو اوقیہ نفع کمائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تجھے ایک ایسے شخص کے بارے میں بتاتا ہوں جس نے ( تجھ سے ) زیادہ نفع کمایا ہے “ اس نے پوچھا : وہ کون ہے ؟ اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ جس نے فرض نماز کے بعد دو رکعت ( سنت کی ) پڑھی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2785
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, عبيد اللّٰه بن سلمان مجھول (تق : 4298), و لم يوثقه أحد فيما أعلم, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15632) (ضعیف) » (اس کے راوی عبیداللہ بن سلمان مجہول ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´جہاد میں تجارت کا بیان۔`
عبیداللہ بن سلمان نے بیان کیا ہے کہ ایک صحابی نے ان سے کہا کہ جب ہم نے خیبر فتح کیا تو لوگوں نے اپنے اپنے غنیمت کے سامان اور قیدی نکالے اور ان کی خرید و فروخت کرنے لگے، اتنے میں ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جس وقت آپ نماز سے فارغ ہوئے آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آج میں نے اس وادی میں جتنا نفع کمایا ہے اتنا کسی نے نہ کمایا ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تباہی ہو تیرے لیے، کیا نفع کمایا تو نے؟ بولا: میں برابر بیچتا اور خریدتا رہا، یہاں تک کہ میں نے تین سو اوقیہ نفع کمائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تجھے ای۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2785]
فوائد ومسائل:
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ دوران سفر جہاد میں تجارت کرنے میں شرعا کوئی حرج نہیں۔
ایسے تاجر کو جہاد میں اپنا پورا اجر اور غنیمت کا حصہ ملے گا۔
جیسے کہ سفر حج میں تجارت کرنا مباح اور جائز ہے۔
قرآن مجید میں ہے۔
(لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ) (البقرة198) تم پرکوئی گناہ نہیں کہ اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔
ہاں اگر ان مبارک سفروں میں کسی کا مقصد ہی صرف تجارت کرنا ہو۔
جہاد یا حج محض دکھلاوا ہو۔
تو ہر شخص کےلئے وہی ہے۔
جو اس نے نیت کی۔
شیخ البانی نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2785 سے ماخوذ ہے۔