حدیث نمبر: 2784
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ شَرِيكٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ ، قَالَ الرَّجُلُ : يَكُونُ عَلَى الْفِئَامِ مِنَ النَّاسِ فَيَأْخُذُ مِنْ حَظِّ هَذَا وَحَظِّ هَذَا .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عطاء بن یسار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے ، اس میں ہے کہ` آپ نے فرمایا : ” ایک شخص لوگوں کی مختلف جماعتوں پر مقرر ہوتا ہے تو وہ اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے اور اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2784
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ھذا حديث مرسل كما قال البغوي (شرح السنة 90/10 ح 2494), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19092) (ضعیف) » (یہ مرسل روایت ہے، عطاء تابعی ہیں)

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´تقسیم کرنے والوں کی اجرت کا بیان۔`
عطاء بن یسار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے، اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ایک شخص لوگوں کی مختلف جماعتوں پر مقرر ہوتا ہے تو وہ اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے اور اس کے حصہ سے بھی لیتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2784]
فوائد ومسائل:
بلحاظ اسناد یہ روایات ضعیف ہیں۔
مگر بااعتبار معنی ومفہوم واضح ہے۔
کہ امیر اور ریئس کےلئے کسی طرح جائز نہیں کہ لوگوں کے حقوق تقسیم کرتے ہوئے ان سے کوئی چیز وصول کرے۔
البتہ کسی اور کو جو اس عمل کا زمہ دار نہ ہو اگر اس سے اس کام کےلئے کہا جائے۔
تو اسے حق حاصل ہے کہ کوئی مقدار معین کرکے لےلے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2784 سے ماخوذ ہے۔