سنن ابي داود
كتاب الجهاد— کتاب: جہاد کے مسائل
باب فِي كِرَاءِ الْمَقَاسِمِ باب: تقسیم کرنے والوں کی اجرت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2783
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ التِّنِّيسِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الزَّمْعِيُّ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُرَاقَةَ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، أَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْقُسَامَةَ ، قَالَ : فَقُلْنَا : وَمَا الْقُسَامَةُ ؟ قَالَ : الشَّيْءُ يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَجِيءُ فَيَنْتَقِصُ مِنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «قسامہ» سے بچو “ تو ہم نے کہا : «قسامہ» کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک چیز کئی آدمیوں میں مشترک ہوتی ہے پھر تقسیم کرنے والا آتا ہے اور ہر ایک کے حصہ میں تھوڑا تھوڑا کم کر دیتا ہے ( اور اسے تقسیم کی اجرت کے طور پر خود لے لیتا ہے ) “ ۔