حدیث نمبر: 2782
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حِينَ أَقْبَلَ مِنْ حَجَّتِهِ دَخَلَ الْمَدِينَةَ ، فَأَنَاخَ عَلَى بَابِ مَسْجِدِهِ ، ثُمَّ دَخَلَهُ فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ " ، قَالَ نَافِعٌ : فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ كَذَلِكَ يَصْنَعُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت حجۃ الوداع سے واپس آئے اور مدینہ میں داخل ہوئے تو مسجد نبوی کے دروازہ پر اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر مسجد میں داخل ہوئے اور اندر جا کر دو رکعتیں پڑھیں پھر اپنے گھر گئے ۔ نافع کہتے ہیں : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2782
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8417)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/129) (حسن صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سفر سے واپسی پر نماز پڑھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت حجۃ الوداع سے واپس آئے اور مدینہ میں داخل ہوئے تو مسجد نبوی کے دروازہ پر اپنی اونٹنی کو بٹھایا پھر مسجد میں داخل ہوئے اور اندر جا کر دو رکعتیں پڑھیں پھر اپنے گھر گئے۔ نافع کہتے ہیں: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2782]
فوائد ومسائل:
مستحب ہے کہ انسان سفر سے واپسی پر پہلے مسجد میں دو رکعت پڑے۔
پھر گھر جائے بالخصوص جہاد اور حج وعمرہ سے واپسی پر۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2782 سے ماخوذ ہے۔