حدیث نمبر: 278
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، بِهَذِهِ الْقِصَّةِ ، قَالَ : فِيهِ تَدَعُ الصَّلَاةَ ، وَتَغْتَسِلُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ وَتَسْتَثْفِرُ بِثَوْبٍ وَتُصَلِّي . قَالَ أَبُو دَاوُد : سَمَّى الْمَرْأَةَ الَّتِي كَانَتِ اسْتُحِيضَتْ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، قَالَ : فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی واقعہ مروی ہے ، اس میں ہے` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ نماز چھوڑ دے گی ، اور اس کے علاوہ میں ( یعنی حیض کے خون کے بند ہو جانے کے بعد ) غسل کرے گی ، اور کپڑا باندھ کر نماز پڑھے گی “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حماد بن زید نے ایوب سے اس حدیث میں اس مستحاضہ عورت کا نام فاطمہ بنت ابی حبیش بتایا ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 278
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الأحاديث السابقة (274،275،276،277), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 24
تخریج حدیث « انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 18158) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عورت کے مستحاضہ ہونے کا بیان اور ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ مستحاضہ اپنے حیض کے ایام کے بقدر نماز چھوڑ دے۔`
اس سند سے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی یہی واقعہ مروی ہے، اس میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ نماز چھوڑ دے گی، اور اس کے علاوہ میں (یعنی حیض کے خون کے بند ہو جانے کے بعد) غسل کرے گی، اور کپڑا باندھ کر نماز پڑھے گی۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: حماد بن زید نے ایوب سے اس حدیث میں اس مستحاضہ عورت کا نام فاطمہ بنت ابی حبیش بتایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 278]
278۔ اردو حاشیہ:
➊ حدیث 274۔ 278 سنداً ضعیف ہیں، تاہم مسئلے کی نوعیت وہی ہے جو ان میں بیان کی گئی ہے۔
➋ علامہ احمد شاکر رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ دور نبوی میں اس عارضے میں مبتلا خواتین کی تعداد دس تک شمار کی گئی ہے۔ علامہ منذری نے پانچ نام گنوائے ہیں۔ حمنہ بنت جحش، ان کی بہن ام حبیبہ، فاطمہ بنت ابی حبیش الاسدیہ، سہلہ بنت سہیل القرشیہ اور ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہما۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 278 سے ماخوذ ہے۔