حدیث نمبر: 2777
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَحْسَنَ مَا دَخَلَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَوَّلَ اللَّيْلِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں` آپ نے فرمایا : ” سفر سے گھر واپس آنے کا اچھا وقت یہ ہے کہ آدمی شام میں آئے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2777
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري (5244) صحيح مسلم (715 بعد ح1928), مشكوة المصابيح (3921)
تخریج حدیث « صحیح البخاری/النکاح 121 (5244)، صحیح مسلم/الجہاد 56 (715)، (تحفة الأشراف: 2343) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´رات میں سفر سے گھر واپس آنا کیسا ہے؟`
جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: " سفر سے گھر واپس آنے کا اچھا وقت یہ ہے کہ آدمی شام میں آئے۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2777]
فوائد ومسائل:
اس وقت لوگ بالعموم جاگ رہے ہوتے ہیں۔
اور آنے والا اور گھر والے بھی شبہات سے محفوظ رہتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2777 سے ماخوذ ہے۔