حدیث نمبر: 2775
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ ، عَنْ ابْنِ عُثْمَانَ ، قَالَ أَبُو دَاوُد وَهُوَ يَحْيَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عُثْمَانَ ،عَنْ الأَشْعَثِ بْنِ إِسْحَاق بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ نُرِيدُ الْمَدِينَةَ فَلَمَّا كُنَّا قَرِيبًا مِنْ عَزْوَرَا نَزَلَ ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً ، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا ، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ فَدَعَا اللَّهَ سَاعَةً ، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا فَمَكَثَ طَوِيلًا ، ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ سَاعَةً ، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا ذَكَرَهُ أَحْمَدُ ثَلَاثًا ، قَالَ : إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي وَشَفَعْتُ لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي ، فَخَرَرْتُ سَاجِدًا شُكْرًا لِرَبِّي ، ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي ثُلُثَ أُمَّتِي فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي شُكْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَأْسِي ، فَسَأَلْتُ رَبِّي لِأُمَّتِي فَأَعْطَانِي الثُّلُثَ الْآخِرَ فَخَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي " ، قَالَ أَبُو دَاوُد : أَشْعَثُ بْنُ إِسْحَاق ، أَسْقَطَهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ . حينَ حَدَّثَنَا بِهِ ، فَحَدَّثَنِي بِهِ عَنْهُ مُوسَى بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے نکلے ، ہم مدینہ کا ارادہ کر رہے تھے ، جب ہم عزورا ۱؎ کے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے ، پھر آپ نے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا ، اور کچھ دیر اللہ سے دعا کی ، پھر سجدہ میں گر پڑے ، اور بڑی دیر تک سجدہ ہی میں پڑے رہے ، پھر کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر تک اللہ سے دعا کی ، پھر سجدے میں گر پڑے اور دیر تک سجدہ میں پڑے رہے ، پھر اٹھے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر دعا کی ، پھر دوبارہ آپ سجدے میں گر پڑے ، اور فرمایا : ” میں نے اپنے رب سے دعا کی اور اپنی امت کے لیے سفارش کی تو اللہ نے مجھے ایک تہائی امت دے دی ، میں اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے سجدہ میں گر گیا ، پھر سر اٹھایا ، اور اپنی امت کے لیے دعا کی تو اللہ نے مجھے اپنی امت کا ایک تہائی اور دے دیا تو میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لیے پھر سجدہ میں گر گیا ، پھر میں نے اپنا سر اٹھایا ، اور اپنی امت کے لیے اپنے رب سے درخواست کی تو اللہ نے جو ایک تہائی باقی تھا اسے بھی مجھے دے دیا تو میں اپنے رب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے سجدے میں گر پڑا “ ۔

وضاحت:
۱؎: جحفہ کے پاس ایک گھاٹی کا نام ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الجهاد / حدیث: 2775
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, يحيي بن الحسن بن عثمان مجهول الحال (تق : 7531), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 100
تخریج حدیث « تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3870) (اس کے راوی ابن عثمان مجہول اور اشعث لین الحدیث ہیں) (ضعیف) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´سجدہ شکر کا بیان۔`
سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے نکلے، ہم مدینہ کا ارادہ کر رہے تھے، جب ہم عزورا ۱؎ کے قریب ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے، پھر آپ نے دونوں ہاتھوں کو اٹھایا، اور کچھ دیر اللہ سے دعا کی، پھر سجدہ میں گر پڑے، اور بڑی دیر تک سجدہ ہی میں پڑے رہے، پھر کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر تک اللہ سے دعا کی، پھر سجدے میں گر پڑے اور دیر تک سجدہ میں پڑے رہے، پھر اٹھے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر کچھ دیر دعا کی، پھر دوبارہ آپ سجدے میں گر پڑے، اور فرمایا: " میں نے اپنے رب سے دعا کی اور اپنی امت کے لیے سفارش کی تو اللہ نے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2775]
فوائد ومسائل:
یہ روایت تو ضعیف ہے۔
تاہم سجدہ شکر والی بات صحیح ہے۔
کیونکہ مذکورہ حدیث سے وہ ثابت ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2775 سے ماخوذ ہے۔