حدیث نمبر: 277
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، بِإِسْنَادِ اللَّيْثِ وَبِمَعْنَاهُ ، قَالَ : فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ ، ثُمَّ إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْتَغْتَسِلْ وَلْتَسْتَثْفِرْ بِثَوْبٍ ثُمَّ تُصَلِّي .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس طریق سے بھی لیث والی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے ، اس میں ہے` ” پھر چاہیئے کہ وہ اس کے بقدر نماز چھوڑ دے ، پھر جب نماز کا وقت آ جائے تو غسل کرے ، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے ، پھر نماز پڑھے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابي داود / كتاب الطهارة / حدیث: 277
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, انظر الأحاديث السابقة (274،275،276), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 24
تخریج حدیث « انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 18158) (صحیح) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عمر فاروق سعیدی
´عورت کے مستحاضہ ہونے کا بیان اور ان لوگوں کی دلیل جو کہتے ہیں کہ مستحاضہ اپنے حیض کے ایام کے بقدر نماز چھوڑ دے۔`
اس طریق سے بھی لیث والی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اس میں ہے پھر چاہیئے کہ وہ اس کے بقدر نماز چھوڑ دے، پھر جب نماز کا وقت آ جائے تو غسل کرے، اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ لے، پھر نماز پڑھے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 277]
277۔ اردو حاشیہ:
حائضہ کو حیض سے پاک ہوتے ہی غسل کرنا واجب نہیں ہو جاتا بلکہ نماز کا وقت آنے پر واجب ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 277 سے ماخوذ ہے۔